شیطان کے چیلے — Page 47
47 سُبحنَ الَّذِي أسرى بِعَبْدِهِ لَيلاً مِّنَ المَسجِدِ الْحَرَامِ إِلَى المَسجِدِ الأقصى (سورة 17 آیت 1) "Its literal and real application is the Mosque built by Mirza Ghulam Ahmad Qadian`s father۔" یہ بات لکھتے ہوئے راشد علی نے لفظ Literal اور real لکھ کر پھر بدیانتی کا ارتکاب کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسجد اقصیٰ کی ایک ایسی توجیہہ کی ہے جس کی سچائی سے کوئی صاحب بصیرت مسلمان انکار نہیں کرسکتا کیونکہ یہ توجیہہ، حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کے معراج کی ایک الگ شان پیش کرتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخالفین تو ویسے ہی سچائی کے دشمن بن کر آپ کی تحریرات پر حملے کرتے ہیں اس لئے ان کے سامنے یہ سچائی بھی قابل اعتراض ہے۔ان کا جب عرفان و معارف کے کوچے سے گذر ہی نہیں تو انہیں آنحضرت ﷺ کے معراج کی راہوں کی سمجھ کس طرح آ سکتی ہے۔مزید برآں یہ بات بھی غلط ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صرف اپنی ہی تشریح کو قائم فرمایا ہے اور باقی تشریحات کا لعدم کر دی ہیں۔ایسا بالکل نہیں بلکہ آپ نے دیگر تو جیہات کے ساتھ ایک اور حقیقت افروز توجیہہ پیش فرمائی ہے وبس۔پس یہ معترضین کی بدیانتی ہے جو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات سے کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو یہ فرماتے ہیں کہ: وو ” سُبحَنَ الَّذِى أسرى بِعَبدِه لَيلاً مِّنَ المَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى المَسْجِدِ الأقصى الَّذِي بَارَکنَا حَولَهُ۔اس آیت کے ایک تو وہی معنے ہیں جو علماء میں مشہور ہیں یعنی یہ کہ آنحضرت کے مکانی معراج کا یہ بیان ہے مگر کچھ شک نہیں کہ اس کے سوا آنحضرت ﷺ کا ایک زمانی معراج بھی تھا جس سے یہ غرض تھی کہ تا آپ کی نظر کشفی کا کمال ظاہر ہواور نیز ثابت ہو کہ مسیحی زمانہ کے برکات بھی درحقیقت آپ ہی کے برکات ہیں جو آپ کی توجہ اور ہمت سے پیدا ہوئی ہیں۔اسی وجہ سے مسیح ایک طور سے آپ ہی کا روپ ہے۔اور وہ معراج یعنی بلوغ نظر کشفی دنیا کی انتہا تک تھا جو سیح کے زمانہ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس معراج میں جو آ نحضرت ﷺ مسجدالحرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر فرما ہوئے وہ مسجد اقصیٰ یہی ہے جو قادیان میں بجانب مشرق واقع ہے جس کا نام خدا کے کلام نے مبارک