شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 46 of 670

شیطان کے چیلے — Page 46

46 46 (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 128) ای طرح حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : وو ” ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی خاص الخاص تقدیر کو دنیا میں جاری کرتا رہتا ہے۔صرف یہی قانونِ قدرت اس کی طرف سے جاری نہیں جو طبعی قانون کہلاتا ہے بلکہ اس کے علاوہ اس کی ایک خاص تقدیر بھی جاری ہے جس کے ذریعہ سے وہ اپنی قوت اور شوکت کا اظہار کرتا ہے اور اپنی قدرت کا پتہ دیتا ہے۔یہ وہی قدرت ہے جس کا بعض نادان اپنی کم علمی کی وجہ سے انکار کر دیتے ہیں اور سوائے طبعی قانون کے اور کسی قانون کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے اور اسے قانون قدرت کہتے ہیں۔حالانکہ وہ طبعی قانون تو کہلا سکتا ہے مگر قانون قدرت نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ اس کے سوا اس کے اور بھی قانون ہیں جن کے ذریعے سے وہ اپنے پیاروں کی مدد کرتا ہے اور ان کے دشمنوں کو تباہ کرتا ہے۔بھلا اگر ایسے کوئی قانون موجود نہ ہوتے تو کس طرح ممکن تھا کہ ضعیف و کمزور موسی فرعون جیسے جابر بادشاہ پر غالب آ جاتا۔یہ اپنے ضعف کے باوجود عروج پا جاتا اور وہ اپنی طاقت کے باوجود برباد ہو جاتا ، پھر اگر کوئی اور قانون نہیں تو کس طرح ہوسکتا تھا کہ سارا عرب مل کر محمد رسول اللہ ﷺ کی تباہی کے در پے ہوتا مگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہر میدان میں غالب کرتا اور ہر حملہ دشمن سے محفوظ رکھتا اور آخر دس ہزار قد وسیوں سمیت اس سرزمین پر آپ چڑھ آتے جس میں سے صرف ایک جان نثار کی معیت میں آپ گونکلنا پڑا تھا۔کیا قانونِ طبعی ایسے واقعات پیش کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔وہ قانون تو ہمیں یہی بتاتا ہے کہ ہر ادنیٰ طاقت اعلی طاقت کے مقابل پر توڑ دی جاتی ہے اور ہر کمزور طاقتور کے ہاتھوں ہلاک ہوتا ہے۔“ ( دعوۃ الامیر - صفحہ 7 ، 8 مطبوعہ الشركة الاسلامیہ۔مطبوعہ لندن 1993 ء) پس راشد علی اور اس کے پیر کا جھوٹ اظہر من الشمس ہے۔انہوں نے از راہ کذب وافتراء ایسی بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کی ہے جو آپ نے نہیں کہی۔(6) مسجد اقصیٰ را شد علی لکھتا ہے Verse of Holy Quran"