شیطان کے چیلے — Page 45
45 کے بعد ہی کر سکتا ہے البتہ جو جھوٹ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کیا ہے اس کو سب نے مشاہدہ کر لیا ہے۔لہذا ہم اس کے کھلے کھلے جھوٹ کی وجہ سے فی الحال اسے "لعنة الله على الكاذبين“ کا قرآنی سرٹیفکیٹ پیش کرتے ہیں۔(5) قیامت، روز جزاوسزا اور تقدیر کوئی چیز نہیں را شد علی نے از راہ کذب وافتراء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف یہ بات بھی منسوب کی ہے کہ گویا آپ نے فرمایا ہے۔"Qiyamah or the day of judgment is nothing and there is no such things as destiny۔"(Beware۔۔۔۔) یہ بھی اس بد بخت معترض کا ایسا جھوٹ ہے جس پر دنیا بھر کی سینکڑوں اقوام کے کروڑوں احمدی لعنت بھیجتے ہیں۔ہر احمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حسب ذیل فرمان پر پوری طرح ایمان رکھتا ہے اور آپ کے ساتھ ساتھ یہ اقرار کرتا ہے کہ ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سید نا حضرت محمد اے اس کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ ملائک حق اور محشر اجسادحق اور روز حساب حق اور جنت حق ہے اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو کچھ اللہ جل شانہ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے اور جو کچھ ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا ہے وہ سب بلحاظ بیان مذکورہ بالا حق ہے۔“ 66 ایام اصلح۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 323) جہاں تک تقریر کا تعلق ہے تو اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس قدر قوی ایمان تھا کہ راشد علی اور اس کے پیر جیسے منکرین کے ایمان لانے پر بھی یقین رکھتے تھے چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔قبضہء تقدیر میں دل ہیں اگر چاہے خدا پھیر دے میری طرف آجائیں پھر بے اختیار گر کرنے معجز نمائی یک دم میں نرم ہو وہ دل سنگیں جو ہو دے مثل سنگ کو ہسار