شیطان کے چیلے — Page 44
44 نشانیاں ظاہر تو ہوں گی لیکن بدیہی طور پر نہیں کہ ان کو قبول کئے بغیر چارہ ہی نہ رہے بلکہ ایسے طور پر کہ عاقل تو اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے اور متعصب جاہل ان کو محسوس نہ کر سکیں گے۔پس اس بارہ میں تدبر سے کام لے کیونکہ یہ معاملہ تدبر کرنے والوں کے لئے بصیرت افروز ہے۔“ (4) عذاب قبر ( حمامۃ البشری۔روحانی خزائن جلد 7 صفحه 302 تا 305 ) راشد علی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کر کے یہ بھی لکھا ہے کہ "There is no punishmet in grave" (Beware۔۔۔) یہ بات بھی اس کے کذب و افتراء کا شاہکار ہے جو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کی ہے۔وہ لکھتا ہے کہ قبر میں عذاب نہیں ہو گا ہم کہتے ہیں کہ اگر اس نے توبہ نہ کی اور زمانہ کے مامور من اللہ کی تکذیب اور اس کی شان میں گستاخیوں سے باز نہ آیا تو اسے بہر حال قبر میں عذاب ملے گا۔اس کے لئے خدا تعالیٰ کے پاک مسیح نے پیغام یہ دیا ہے کہ میت خبیث کے لئے روزخ کی طرف قبر میں ایک کھڑکی کھولی جاتی ہے جس کی راہ سے دوزخ کی ایک جلانے والی بھاپ آتی رہتی ہے اور اس کے شعلوں سے ہر وقت وہ خبیث روح جلتی رہتی ہے لیکن ساتھ اس کے یہ بھی ہے کہ جو لوگ اپنی کثرت نافرمانی کی وجہ سے ایسے فنافی الشیطان ہونے کی حالت میں دنیا سے جدا ہوتے ہیں کہ شیطان کی فرمانبرداری کی وجہ سے بکلی تعلقات اپنے مولی حقیقی سے توڑ دیتے ہیں ان کے لئے ان کی موت کے بعد صرف دوزخ کی طرف کھڑ کی ہی نہیں کھولی جاتی بلکہ وہ اپنے سارے وجود اور تمام قومی کے ساتھ خاص دوزخ میں ڈال دیئے جاتے ہیں جیسا کہ اللہ جلشانہ فرماتا ہے مِمَّا خَطِيئَتِهم أغرقُوا فَأُدْخِلُوا نَارًا (نوح: 26) مگر پھر بھی وہ لوگ قیامت کے دن سے پہلے اکمل اور اتم طور پر عقوبات جہنم کا مزہ نہیں چکھتے۔“ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 283 ،284 ) راشد علی کا اقرار ہے کہ اس کا شیطان کے ساتھ خاص تعلق ہے اور شیطان کے بارہ میں مشہور ہے کہ وہ ارواح خبیثہ سے اپنا تعلق اور رشتہ رکھتا ہے۔اس رشتہ کے نتیجہ میں راشد علی عذاب قبر کا مشاہدہ تو مرنے