شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 638 of 670

شیطان کے چیلے — Page 638

635 نیز آپ نے فرمایا ایک کروڑ روپیہ ہر مولوی کو دوں گا جو یہ دعوی ہی کر دے کہ اس کی کوشش سے اترا ہے اور اس کی دعائیں مقبول ہوئی تھیں۔میں بحث نہیں کروں گا۔ان کی بات مان جاؤں گا اور ایک ایک کروڑ روپے کی تھیلی ان کو پکڑا دی جائے گی۔ہر مولوی جو دنیا کے پردے میں جہاں کہیں ہو وہ مسیح کو آسمان سے اتار دے، دعائیں کر کے، گریہ وزاری کر کے، جو چاہے کرے ایک دفعہ اسے آسمان سے اتار دے پھر وہ آئے اور ایک کروڑ روپیہ لے جائے۔“ پھر آپ نے یہ بھی فرمایا کہ مسیح کو یہ کہاں اتار سکتے ہیں۔میسیج تو بہت ہی پاک وجود ہے۔دجال کے گدھے کو ہی پیدا کر دیں مجھے یہ بھی منظور ہے۔مسیح کا اتر نا تو دور کی بات ہے اگر صدی ختم ہونے سے پہلے وہ دجال کا گدھا ہی بنا کر دکھا دو جس کے آئے بغیر مسیح نے نہیں آنا۔تو پھر ایک ایک کروڑ روپیہ ہر مولوی کو ملے گا۔یہ دعوای میرا آج بھی قائم ہے۔ہاتھ کنگن کو آرسی کیا مسیح کو اتاریں اور جھگڑ اختم کر دیں۔میں اور میری ساری جماعت پہلے بھی مسیح کو مانے ہوئے ہے ایک اور مسیح کو ماننے میں ہمیں کیا عار ہوگی۔مگر تم وہ بد بخت ہو کہ اگر نعوذ باللہ من ذالک واقعہ وہ تمہاری دعاؤں سے اترا تو تم ہی انکار میں پہلے ہو گے۔تم بلاتے ہو اور پھر اس کا انکار کر دیا کرتے ہو۔تم ان یہود کے مشابہ ہو جنہوں نے بڑی گریہ وزاری سے میسیج کے آنے کی دعائیں مانگیں تھیں وہ دیوار گریہ سے سر پٹکا کرتے تھے کہ اے خدا! ہماری قوم ادبار میں کہاں تک جا پہنچی ہے۔اے خدا! ہم پر رحم فرما۔اس منجھی کو ہم میں بھیج دے لیکن جب خدا تعالیٰ نے اس منجی کو ا تارا تو جانتے ہو کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ پس جو آنے والا تھا وہ تو آچکا اب اور کوئی نہیں آئے گا۔تم نے جتنے جتن کرنے ہیں کر دیکھو۔اگر تمہیں وہم ہے کہ وہ آئے گا تو میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تم انکار میں سب سے پہلے ہو گے اور اسی محرومی کی حالت میں مرجاؤ گے۔“ اختتامی خطاب از لندن بر موقع جلسہ سالانہ قادیان ،مورخہ 18 دسمبر 1994ء) الیاس ستار صاحب ! یہ دو قرض ہیں جو آپ لوگوں کے سر پر ہیں۔ایک سترہ (17) سال پرانا ہے اور دوسرا آٹھ (8) سال پہلے کا۔پہلے ان قرضوں کوتو اتار کر دکھا ئیں۔تاکہ کم از کم آپ جھوٹوں کی صف میں سے نکل سکیں۔جب تک خدا تعالیٰ کی تقدیر آپ پر جھوٹ کی مہر باقی رکھتی ہے اس وقت تک آپ جھوٹے ہی