شیطان کے چیلے — Page 625
622 نہیں۔مگر الیاس صاحب! آپ کو یہ عقیدہ گوارا ہے۔نیز یہ بھی ملاحظہ فرمائیں کہ حضرت ابوعبداللہ محمد بن علی حسین الکلیم الترمذی (التوئی 206 ) کیا فرماتے ہیں: الجهلة “ نظن أن خاتم النبيّن تأويله أنه آخرهم مبعثاً فأى منقبة في هذا ؟هذا تأويل البله ( کتاب خاتم الاولیاء صفحہ 341 المطبعة الكاثولیکبیہ بیروت لبنان) ترجمہ:۔یہ جو گمان کیا جاتا ہے کہ خاتم النبیین کی تاویل یہ ہے کہ آپ مبعوث ہونے کے اعتبار سے آخری نبی ہیں۔بھلا اس سے آپ کی کیا فضیلت وشان ہے؟ اور اس میں کونسی علمی بات ہے یہ تو احمقوں اور جاہلوں کی (مرقس۔باب 13 آیت 27) تاویل ہے۔یہ تو محض ایک آئینہ ہے جو آپ کو دکھایا گیا ہے۔اس مسئلہ پر ہم صفحہ 159 پر " ترجمہ و معانی میں تحریف کے الزام کے جواب میں تفصیلی بحث کر آئے ہیں۔چونکہ آپ اناجیل کی بات فورا مان لیتے ہیں اس لئے اس مسئلہ کے حل کے لئے اگر آپ صرف انا جیل ہی کی طرف رخ کرتے تو بھی آپ کو علم ہو جاتا کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے خود بھی اپنی دوسری آمد کی خبر دی اور فرمایا کہ لوگ ابنِ آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ بادلوں میں آتے دیکھیں گئے الیاس صاحب ! انہی الفاظ کے مطابق آپ لوگوں کا پختہ عقیدہ ہے کہ وہی مسیح ناصری علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے جو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔لیکن تعجب ہے آپ کی عقل پر کہ ساتھ ساتھ آپ برنباس کی انجیل پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو بھی آئیگا وہ جھوٹا ہی ہوگا۔پس آپ تو اس مسیح سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جسکو آسمان سے اترتا دیکھنے کے لئے آپ کی آنکھیں پتھرا چکی ہیں۔آپ لوگوں کے نصیب میں صرف اور صرف محرومیت ہے آپ کے لئے تو امید کی کوئی کرن بھی باقی نہیں رہی۔اسلئے کہ بقول آپ کے اب جو بھی آئے گا وہ جھوٹا ہی ہوگا۔(9) A۔D