شیطان کے چیلے — Page 624
621 حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت امام ابن قتیبہ ، حضرت امام محمد طاہر، حضرت مجد دالف ثانی ، حضرت شیخ احمد سر ہندیؒ ، حضرت امام محی الدین ابن العربی ، حضرت امام ابو جعفر صادق ، حضرت امام عبد الوہاب شعرائی ، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، حضرت الشیخ عبدالقادر الکر دستانی ، حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں ، حضرت سید عبدالکریم جیلانی ، حضرت شیخ بالی آفندی ، حضرت مولانا جلال الدین رومی کے مرشد طریقت حضرت ابوسعید مبارک ابن علی مخزومی ، حضرت محمد بن علی شوکائی، حضرت امام محمد بن عبدالباقی زرقانی ، حضرت ابوالحسن شریف رضی" ، حضرت شیخ ابو عبدالله محمدالحسن احکیم الترمذی ، حضرت امام فخر الدین الرازی، حضرت امام عبد الرحمن ابن خلدون ، حضرت شاہ بدیع الدین مدار ، حضرت ملا علی قاریؒ ، حضرت شیخ نوشاہ گنج۔اور آخر میں الیاس ستار وغیرہ کے پیرومرشد بانی دارالعلوم دیو بند مولا نا محمد قاسم نانوتوی کا نام آتا ہے جو ہمارے مسلک کی تائید کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔”اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی یہ بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔“ ( تحذیر الناس - صفحہ 46 مطبوعہ مکتبہ قاسم العلوم کراچی - 1976 ) الیاس صاحب! آپ ایک ایسی انجیل پر بغلیں بجاتے ہیں اور اسے جزو ایمان سمجھتے ہیں جسے محض تاریخ کے مرتبہ کی ایک کتاب قرار دیا جا سکتا ہے۔اس میں مذکور جس عقیدہ کو آپ نے اپنایا ہے، اس عقیدہ کو غلط قرار دیتے ہوئے آپ کے پیر ومرشد مولا نا محمد قاسم نانوتوی فرماتے ہیں: عوام کے خیال میں تو رسول اللہ ﷺ کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ ﷺ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانے کے بعد اور آپ سب میں آخری نبی ہیں مگر اہلِ فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تأخیر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔پھر مقام مدح میں ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہو سکتا ہے ہاں اگر اس وصف کو مقام مدح قرار نہ دیجئے تو البتہ خاتمیت باعتبار تا تیر زمانی صحیح ہوسکتی ہے۔مگر میں یہ جانتا ہوں کہ اہلِ اسلام میں سے کسی کو یہ بات گوارا نہ ہوگی۔“ ( تحذیر الناس۔صفحہ 3 - مطبوعہ مکتبہ قاسم العلوم کراچی 1976) پس یہ عقیدہ کہ آنحضرت ﷺ زمانہ کہ لحاظ سے سب سے آخر میں ہیں۔آپ کے بعد جو بھی آئیگا جھوٹا ہوگا کیونکہ آپ زمانی لحاظ سے سب سے آخری ہیں، ایسا عقیدہ ہے جو اہل اسلام میں سے کسی کو گوارا