شیطان کے چیلے — Page 601
598 ی بھی اس کا کھلا کھلا جھوٹ ہے جو یہ کہتا ہے کہ یہودیوں کی شائع کردہ تو رات کی کتاب استثناء میں یہ جملہ درج ہی نہیں ہے۔وہ لکھتا ہے انگلش بائیبل لکھنے والوں نے مذکورہ جملے کے لئے بریکٹ کا استعمال بالکل صحیح کیا ہے۔کیونکہ انجیل سے قبل کی ساری کتابیں عیسائیوں کو یہودیوں سے ورثہ میں ملیں۔لہذا یہودیوں کی شائع کردہ تو رات کی کتاب کے استثناء کے باب 12 آیت 23 میں یہ جملہ درج ہی نہیں ہے۔نہ بریکٹ میں نہ بریکٹ کے باہر سیکس ملاحظہ فرمائیں۔( یہاں حسب ذیل عبارت کا اس نے عکس دیا ہے ) 22: If a man is guilty of a capital offense and is put to death, and you impale him on a stake۔You must not let his corpse remain on the stake overnight, but must bury him the same day۔For an impaled body is an affront to God: you shall not defile the land that the LORD your God is giving you to possess۔" قبل اس کے کہ اس تحریر کا تجزیہ کیا جائے جو الیاس ستار نے یہودیوں کی مطبوعہ بائیبل سے پیش کیا ہے، اسے یہ بتانا ضروری ہے کہ اگر وہ قرآنِ کریم سے اس بارہ میں ہدایت طلب کرتا تو اسے یہ ضرور نظر آ جاتا کہ کسی کی موت کو ذلیل اور لعنتی ثابت کرنے کے لئے صلیب دینا یا درخت پرلٹکانا بنی اسرائیل کا ایک ا ایسا قانون تھا جونزولِ تو رات سے پہلے بھی ان میں رائج نظر آتا ہے۔اور وہ فرعون کو بھی معلوم تھا۔چنانچہ جب اس کے جادو گر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے شکست کھا کر خدا تعالیٰ پر ایمان لے آئے تو فرعون نے ان کو اسی سزا کی دھمکی دی جو بنی اسرائیل کے نزدیک سب سے زیادہ ذلیل اور رسوا کن سمجھی جانے والی سزا تھی۔چنانچہ وہ کہتا ہے وَلا صَلبَتْكُمْ فِي جُذوع النخل ( طلا 72) کہ میں تمہیں کھجور کے تنوں پر لٹکاؤں گا۔حالانکہ فرعون کا اپنا طریق یہ تھا کہ وہ طرح طرح کے دیگر عذابوں میں مبتلا کرتا تھا۔جن کا ذکر بڑی تفصیل کے ساتھ قرآن کریم میں موجود ہے۔پس اس موقع پر اس کا درختوں پر لٹکانے کی دھمکی دینا اسی قانون کے پیش نظر معلوم ہوتا ہے۔جو بنی اسرائیل کے ہاں مذہبی طور پر مسلمہ تھا۔اگر بالفرض یہودیوں کی شائع کردہ کتاب میں وہ فقرہ نہ بھی ہوتا تو بھی یہ ثابت ہے کہ یہ حکم تو رات میں موجود ہے۔کیونکہ یشوع بن نون جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جانشین تھے وہ بھی اس حکم پر کار بند تھے۔