شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 602 of 670

شیطان کے چیلے — Page 602

599 چنانچہ یشوع باب 10 آیت 26 ، 27 نیز یشوع باب 8 آیت 29 ملاحظہ فرمائیں۔ان آیات سے ثابت ہے کہ بنی اسرائیل کا اور شریعتِ موسوی کا یہ ایک پکا قانون تھا۔کہ جس کو لکڑی پر لٹکا یا جائے۔وہ خدا کی طرف سے ملعون ہے۔چنانچہ اسی کی تعمیل میں یشوع نے اپنے مخالفوں کو قتل کرنے کے بعد درخت پر لٹکایا۔تا کہ وہ ملعون ثابت ہوں۔پس الیاس ستار کو اس کے جھوٹ سے اطلاع دینے کے لئے عرض ہے کہ یہود کی مقدس کتب میں یہ قانون اپنی پوری عملی وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر لٹکانے کی جو کاروائی یہود نے کی ، وہ بھی اسی مسلمہ قانون کی اتباع کا ٹھوس ثبوت ہے، حالانکہ وہ آپ کو کسی اور طریق پر یا اور ذریعہ سے بھی قتل کر سکتے تھے۔مگر اہتمام کے ساتھ صلیب پر لٹکانے کی کارروائی صرف اور صرف اسی مسلمہ قانون کی وجہ سے تھی تا کہ وہ آپ کو ملعون ثابت کر سکیں۔الیاس ستار کو یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ قرآن کریم میں بڑی صراحت کے ساتھ یہ بتایا گیا ہے۔کہ یہودی تحریف آیات میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔لہذا توریت میں اگر اب یہ قانون موجود نہ بھی ہوتا، تو بھی اس کا مد عا ثابت نہ ہوسکتا تھا، کیونکہ بعید نہیں تھا، کہ یہود اس آیت کو بھی تحریف کا نشانہ بنا چکے ہوتے لیکن یہ ان کی مجبوری ہے کہ وہ اس قانون کو اپنی کتب میں سے کبھی بھی نکال نہیں سکتے، کیونکہ حضرت عیسی علیہ السلام کو ( نعوذ باللہ ) ملعون ثابت کرنے کے لئے انہیں یہ لازماً بڑی حفاظت کے ساتھ باقی رکھنا پڑتا ہے۔پس یہ جملہ شواہد الیاس ستار کو قطعی جھوٹا ثابت کرتے ہیں۔معزز قائین! آئیے اب ہم اس مذکورہ بال تحریر کا جائزہ لیتے ہیں۔جس کا عکس الیاس ستار نے اپنے رسالہ میں پیش کیا ہے مگر نہ اس کا کوئی حوالہ درج کیا ہے اور نہ یہ بتایا ہے، کہ وہ کتاب کس ادارے کی طرف سے کب شائع کی گئی۔بہر حال یہودیوں کی بائیبل سے پیش کردہ اس تحریر کا ترجمہ یہ ہے۔اگر کسی نے کوئی ایسا بڑا گناہ کیا ہو کہ اس کی وجہ سے وہ واجب القتل قرار پائے اور تو اسے لکڑی پر میخوں سے لٹکا دے تو اس کی لاش رات بھر کی نہ رہے، بلکہ تو اسے ضرور بالضرور اسی دن دفن کر دینا کیونکہ میخوں سے لٹکایا ہوا جسم خدا تعالیٰ کے حضور سر عام ذلیل ورسوا کیا ہوا ہے۔تو اپنی اس زمین کو جو خدا وندخدا نے تجھے بطور انعام دی، پلید نہ کر “