شیطان کے چیلے — Page 580
577 آن کریم میں بیان شد و اس ابدی سچائی کو پیش فرمایا ہے جو آیت کریمہ فلما تو فیتنی میں خدا تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور حضرت عیسی علیہ السلام یہ عرض کرتے ہیں کہ میں نے ان کو شرک کی تعلیم نہیں دی بلکہ یہ سب کچھ میری وفات کے بعد ہی ہوا ہے اور جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی ان پر نگران تھا۔یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بتایا ہے کہ چونکہ یہاں فــلــمــا توفیتنی کے معنی وفات اور موت ہی کے ہیں۔اس لئے یہ صاف اور سیدھی بات ہے کہ عیسائی حسیت مجموعی اس کے بعد ہی بگڑے ہیں۔چنانچہ آپ نے یہ واضح فرمایا کہ چونکہ عیسائیوں کا بگڑ جانا ایک ثابت شدہ امر ہے اس لیے آیت فلما تو فیتنی میں صریح ظاہر کیا گیا ہے کہ واقعہ وفات حضرت عیسی علیہ السلام وقوع میں آ گیا۔پس الیاس ستار کے اس اعتراض کی زد براہِ راست آیت کریمہ پر پڑتی ہے ، جب وہ یہ کہتا ہے کہ سب عیسائی پولوس کے ذریعہ حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی میں بگڑ گئے تھے۔کیونکہ قرآن اس کے با لکل برعکس یہ فرماتا ہے کہ عیسائی بحیثیت مجموعی حضرت عیسی کی وفات کے بعد بگڑے۔الیاس ستار کو آخر قرآنِ کریم کی بات تو ماننی چاہئے۔جہاں تک اس بحث کا تعلق ہے کہ پولوس نے عیسائیت کو کس حد تک بگاڑا اور اس میں کس حد تک فساد ڈالا ؟ تو یہ ایک الگ تاریخی حقیقت ہے لیکن یہ کہ مسیحی کب بگڑے اور کب تک صحیح رہے اس کا قطعی فیصلہ مذکورہ بالا آیت سے ہی طے ہوتا ہے۔عیسائیت کا بگاڑ ،عیسائیوں کی گمراہی یا ان کے شرک میں مبتلا ہونے کی جو تعریف قرآن کریم کے نزدیک قرار پائی ہے اس کا اطلاق لازما حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے بعد ہی ہوتا ہے۔کیونکہ اس بحث کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اگر حضرت عیسی علیہ السلام ابھی تک زندہ ہیں تو یہ یقینی بات ہے کہ عیسائی ابھی تک ان کو معبود بھی قرار نہیں دیتے۔جبکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ عیسائی ان کو معبود قرار دیتے ہیں۔فرمایا: لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوا إِنَّ اللهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَم (المائده:18) ترجمہ:۔یقیناً ان لوگوں نے کفر کیا جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ ہی مسیح بن مریم ہے۔