شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 581 of 670

شیطان کے چیلے — Page 581

578 یعنی عیسائی حتمی طور پر کھلے کھلے شرک پر قائم ہیں۔پس یہ اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ ان کی یہ حالت ” فلما توفیتنی “ کے بعد کی ہے۔کیونکہ اس پر صادق و مصدوق حضرت محمد ﷺ کی گواہی بھی ایک حرف آخر کے طور پر موجود ہے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے: وو عن ابن عباس رضى الله عنه ـ ـ انه يجاء برجال من امتى فيوخذ بهم ذات الشمال فاقول یا رب -اصیحابی فیقال انك لا تدرى ما احد ثوا بعدك فاقول كما قال العبد الصالح "وكـنـت عليهم شهيـدا مـادمـت فيهـم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم " فيقال ان هو لاء لم يزالوا مرتدين على اعقابهم منذ فارقتهم 66 ( صحیح بخاری۔کتاب التفسیر تفسیر المائدہ) ترجمہ :۔حضرت ابن عباس رضی اللہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ) میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے اور انہیں بائیں طرف (جہنم کی طرف) لے جایا جائے گا۔تو میں کہوں گا۔اے میرے رب یہ تو میرے ساتھی ہیں تو کہا جائے گا۔تو نہیں جانتا کہ یہ تیرے بعد کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔تو اس وقت میں اسی طرح کہوں گا جس طرح اس نیک بندے (حضرت عیسی علیہ السلا م) نے کہا کہ ” میں ان پر ( اس وقت تک ) نگران تھا جب تک میں ان میں موجود رہا۔پس جب تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر تو ہی ان پر نگران تھا۔اس پر کہا جائے گا کہ یہ لوگ تیرے بعد مرتد ہی رہے۔“ آنحضرت ہے کے اس فرمان کو ہر صحابی نے پورے انشراح صدر ساتھ قبول کیا۔نیز حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی اس روایت کے خلاف کسی کا کوئی قول مروی نہ ہونا صحابہ کے اس بارہ میں اجماع پر دلالت کرتا ہے۔اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے بڑے واضح رنگ میں بیان فرمایا ہے کہ حضرت علیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور ان کی وفات کے بعد عیسائی بگڑ چکے ہیں۔کیونکہ جو معنی توفیتــنــی“ کا آنحضرت ﷺ نے اپنے لئے اختیار فرمایا ہے وہی معنی حضرت عیسی علیہ السلام پر بھی اطلاق پاتا ہے۔پس رسول کریم ﷺ کا اپنی وفات کے بعد قیامت کے دن حضرت عیسی علیہ السلام کے الفاظ میں بیان دینا واضح کرتا ہے کہ عیسائیت کا شرک پر قائم ہو جانا فلما تو فیتنی“ یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے بعد ہوا ہے۔66