شیطان کے چیلے — Page 537
533 تاکیدی حکم دیا جارہا ہے کہ تم امت کو یہ نصیحت کرو گے کہ ہاں جب ایسا شخص آئے جو تمہاری شریعت کا مخالف نہ ہو، جو تمہاری کتاب کا مخالف نہ ہو بلکہ اس کا مؤید ہو اور اس کی خدمت پر مامور ہو جائے ایسے شخص کا تم نے انکار نہیں کرنا۔کتنا عظیم الشان عہد ہے۔یہ ذکر پہلے فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے دوبارہ فرماتا ہے: وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنگ اب یادرکھنا اس بات کو کہ جو عہد ہم : نے نبیوں سے لیا تھا وہ تجھ سے بھی لیا ہے اور وہ عہد کیا ہے؟ یہی کہ جب کتاب آ جائے اور حکمت کامل ہو جائے اس کے بعد بھی اگر نبی آئے گا جو مخالف نہیں ہوگا تو اس کی بھی تائید کرنا۔اگر نبیوں کے نہ آنے والا ایک نیا باب کھلا تھا۔اگر نئی رسمیں جاری ہوئی تھیں تو پھر آنحضرت ﷺ سے اس عہد کے لینے کی کیا ضرورت تھی کہ نبی آسکتا ہے ہاں شرط یہ ہے کہ تمہاری شریعت سے باہر نہیں ہوگا۔اگر ایسا نبی آئے تو مجھ سے اقرار کرو اور پھر انہوں نے اقرار کیا اور عہد کیا خدا سے کہ ہاں ہم یہی نصیحت کریں گے۔لما معهم - علامہ فخر الدین رازی اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: فحاصل الكلام أنّه اوجب على جميع الانبياء الايمان بكلّ رسول جاء مصدّقا (التفسير الكبير تفسير سورة الاحزاب۔زیر آیت هذه ) ترجمہ:۔اس کلام کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء پر یہ واجب کر دیا ہے کہ وہ ہر رسول پر جو ان کی تصدیق کرتا ہے ایمان لائیں۔کیسا عظیم الشان نکتہ ہے کہ جب تک کسی کتاب کا زمانہ باقی ہے، جب تک کوئی شریعت جاری ہے اور خدا نے اسے منسوخ نہیں فرمایا، اس وقت تک کسی جھوٹے کا سر پھرا ہوا ہے کہ اس کی تائید میں اٹھ کھڑا ہو اور اس کی تکمیل کی کوشش شروع کر دے۔جھوٹا تو سچائی کی مخالفت کے لئے آئے گا اس لئے ایسا دعویدار جو شریعت کی تائید اور تکمیل کے لئے آ رہا ہو اور اپنا سب کچھ اس کی حمایت میں خرچ کر رہا ہو اس کی مخالفت تم نے ہرگز نہیں کرنی ، اس پر ضرور بالضرور ایمان لانا ہے۔ظاہر بات ہے کہ آنحضرت ﷺ کے اپنے ایمان لانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ بذات خود اس زمانے میں موجود ہوں اور نعوذ باللہ پھر کوئی اور نبی آجائے۔اصل میں یہ عہد قوم سے ہے جس کا نبی سردار ہوتا ہے اس لئے مخاطب ہوتا ہے۔یہ وہ عہد ہے جس