شیطان کے چیلے — Page 536
532 میں آنے والے رسول پر ایمان اور اس کی مدد کا وہ عبد اللہ تعالیٰ نے آپ سے بھی لیا تھا۔جس کا یا تو اس نام نہاد پیر کوعلم ہی نہیں اور یہ اس کی جہالت کی علامت ہے۔یا پھر اس نے عادتا سچائی کو چھپانے کی جسارت کی ہے۔وہ آیت کریمہ جو پیر عبدالحفیظ نے اوپر درج کی ہے۔ترجمہ اس کا یہ ہے کہ ” اور اس وقت کو بھی یاد کرو جب اللہ نے ( اہل کتاب سے) سب نبیوں والا پختہ عہد لیا تھا کہ جو بھی کتاب اور حکمت میں تمہیں دوں پھر تمہارے پاس (ایسا) رسول آئے جو اس کلام کو پورا کرنے والا ہو جو تمہارے پاس ہے تو تم ضرور ہی اس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا ( اور ) فرمایا تھا کہ کیا تم اقرار کرتے ہو اور اس پر میری طرف سے ذمہ داری قبول کرتے ہو؟ انہوں نے کہا ہاں ہم اقرار کرتے ہیں (اور ) قال فاشهدوا کہا تم بھی گواہی دو وانا معكم من الشهدین اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے (ایک گواہ ) ہوں۔اسی عہد اور میثاق کا ذکرتے ہوئے اللہ تعالیٰ مزید وضاحت فرماتا ہے کہ وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيْمَ وَمُوسَى وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا لِّيَسْئَلَ الصَّدِقِيْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ وَأَعَدَّ لِلْكَفِرِيْنَ عَذَابًا أَلِيمًا (الاحزاب آیت 9۔8) ترجمہ:۔اور (یاد کرو) جب کہ ہم نے نبیوں سے ان پر عائد کردہ ایک خاص بات کا وعدہ لیا تھا اور تجھ سے بھی وعدہ لیا تھا) اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسی ابن مریم سے بھی اور ہم نے ان سب سے ایک پختہ عہد لیا تھا۔تا کہ بچوں سے ان کے سچ کے متعلق سوال کرے اور کافروں کے لئے اس نے درد ناک عذاب تیار کیا ہے۔یعنی نبیوں سے جو میثاق لیا گیا تھا، جس کا سورہ آل عمران میں ذکر ہے۔اس کے بارہ میں فرمایا کہ یہ نبیوں کا میثاق ہم نے ہر نبی سے لیا۔اور میثاق کا مضمون یہ تھا کہ اگر تمہارے بعد کوئی ایسا نبی آئے جو اس کتاب کی تائید کرے اور اس حکمت کی تائید کرے جو تمہیں عطا کی گئی اور اس کی مخالفت نہ کر رہا ہو تو کیا تم اس امر کا اقرار کرتے ہو یا نہیں کہ پھر اس کی مخالفت نہیں کرو گے بلکہ اس کی تائید کرو گے ، اس پر ایمان لاؤ گے۔یہاں ایمان لانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نبی کی موجودگی میں آئے۔مضمون صاف بتا رہا ہے کہ انبیاء کو