شیطان کے چیلے — Page 492
488 لکھا ہے: انه انما انتحل ذلك عناداً ومحاكاة لما بلغه شان النبي صلى الله عليه وسلّم۔۔۔۔ثمّ زعم انه المهدى الاكبر الذى يخرج في آخر الزمان وانّ عيسى يكون صاحبه ويصلّى خلفه کہ اس نے یہ دعویٰ محض آنحضرت ﷺ کی شان بلند کو دیکھ کرعنا دا کیا تھا اور پھر اس نے خیال کیا کہ میں مہدی اکبر ہوں جو آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا۔عیسی اس کے ساتھ ہوگا اور اس کے پیچھے نماز پڑے گا۔ابن خلدون کے اس بیان پر کہ صالح نے دعوی نبوت کیا دو باتیں خاص طور پر قابل توجہ ہیں۔اول یہ بیان ابن خلدون نے محض ایک شخص کی روایت سے نقل کیا ہے اور دنیا کا کوئی عظمند ایسے اہم معاملہ کے لئے خبر واحد کو مستند نہیں مان سکتا۔بالخصوص جبکہ اس راوی کا بیان بھی کئی سوسال کے بعد ضبط تحریر میں لایا گیا ہو۔دوم ابن خلدون نے مدعی مذکور کے الہام یا اس کا دعوی اس کے الفاظ میں نقل نہیں کیا۔اگر ہم ابن خلدون کی روایت کو صحیح بھی تسلیم کر لیں اور صالح کو مدعی نبوت بھی مان لیں تب بھی اس سے ہمارے استدلال پر کوئی حرف نہیں آتا۔کیونکہ صالح مذکور نے اپنے دعوئی کو علی الاعلان پیش نہیں کیا بلکہ اس کو مخفی رکھتا رہا۔چنانچہ ابن خلدون لکھتے ہیں: ” واوصى (صالح بن طريف ) بدينه الى ابنه الياس وعهد اليه بموالاة صاحب الاندلس من بنى اميّة و باظهار دينه اذا قوی امرهم وقام بامره بعده ابنه الياس ولم يزل مظهراً 66 للاسلام مسراً لما اوصاه به ابوه من كلمة كفرهم “ ابن خلدون جلد 6 صفحہ 207 - مؤسستة جمال للطباعة والنشر بيروت ) صالح بن طریف نے اپنے دین کی اپنے بیٹے کو وصیت کی اور کہا کہ اندلس کے حاکم سے دوستی رکھنا اور جب تمہاری حکومت مضبوط ہو جائے تو اس دین کو ظاہر کرنا۔چنانچہ اس کے بعد اس کا بیٹا الیاس والی ہوا اور وہ ہمیشہ اسلام کو ظاہر کرتا رہا اور اپنے باپ کے وصیت کردہ مذہب کو چھپا تا رہا۔گویا صالح بن طریف نے اس دعوی کو عام پبلک میں بیان نہیں کیا بلکہ ہمیشہ اخفاء سے کام لیتا رہا