شیطان کے چیلے — Page 493
489 اور اسی اخفاء کی حالت میں مرگیا اور پھر اس کے بیٹے نے بھی اس کا اظہار نہیں کیا بلکہ وہ سب اسلام کا ہی اظہار کرتے رہے اور یہ ایسے مدعیوں کی عام حالت ہے جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے لکھا ہے: وكذلك المنتظر محمد بن الحسن فان عددا كثيراً من الناس يدعى كلّ واحد هم انه محمد بن الحسن منهم من يظهر ذلك لطائفة من الناس ومنهم من يكتم ذالك ولا يظهره الا للواحد والاثنين“ (منہاج السنة - جلد 2 صفحہ 123) کہ چونکہ محمد بن الحسن کے مہدی ہونے کا خیال عوام میں پایا جاتا ہے اس لئے بہت سے لوگ اس امر کے مدعی ہوئے ہیں جن میں سے بعض نے اس دعوے کو ایک جماعت کے سامنے پیش کیا اور بعض نے اس دعوے کو بالکل چھپایا اور سوائے ایک دو آدمیوں کے کسی کے سامنے اس کا ذکر نہ کیا۔“ پس صالح بن طریف کو بطور نظیر پیش کرنا غلطی ہے۔راشد علی اور اس کے پیر نے یہ لکھ کر کہ مدعی مذکور 47 سال تک دعوئے نبوت کے ساتھ زندہ رہا، ایک صریح غلط بیانی کا ارتکاب کیا ہے۔کیا وہ اس کا کوئی ثبوت دے سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں ! ھاتوا برهانكم ان كنتم صادقين - -2 ابو منصور :۔یہ درست ہے کہ ابو منصور مذکور نے نماز و روزہ وغیرہ سے انحراف کیا تھا اور لوگوں کو حکومت کیخلاف بھی برانگیختہ کرتارہا تھا۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اپنی کتاب منہاج السنتہ میں اس کا ذکر شیعہ فرقوں کے ذیل میں کیا ہے اور اس کی اباطیل کو تفصیلاً بتایا ہے لیکن کسی ایک جگہ بھی اس کے دعویٰ نبوت کا اور 27 برس تک مہلت پانے کا ذکر نہیں ہے۔ع کوئی دکھلائے اگر حق کو چھپایا ہم نے اب را شد علی اور اس کے پیر عبدالحفیظ کا فرض ہے کہ وہ اس کے دعویٰ نبوت کا ثبوت دیں لیکن وہ ایسا ہر گز نہیں کر سکتے۔منہاج السنہ اور دیگر کتب تاریخ سے صرف اس قدر ثابت ہے کہ وہ ایک ملحد انسان تھا اور رافضی خیالات کی ترویج چاہتا تھا۔پھر قدرے الوہیت کا دعویدار بن گیا تھا۔چنانچہ الاستاذ ابومنصور البغدادی اپنی شہرہ آفاق کتاب ”الفرق في الفرق “ میں ابو منصور المحجبی مدعی مذکور کے متعلق لکھتے ہیں: ” وادعى هـذا الـعـجـلـى انه خليفة الباقر ثم الحد في دعواه فزعم انه عرج به الى