شیطان کے چیلے — Page 491
487 راشد علی چند جھوٹوں پر اکتفا کرنے والا تو نہیں لیکن یہ بہر حال حقیقت ہے کہ جھوٹوں کی فہرست تو جتنی بھی لمبی ہو وہ ہمارے اس مذکورہ بالا پیش کردہ اصول کی صداقت کی اتنی ہی گواہ بنتی چلی جائے گی۔کیونکہ ان مدعیان میں سے ہر ایک یہ ثابت کر جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ مفتری کو نا کام ونامراد کرتا ہے اور اسے پنپنے نہیں دیتا اور اسے ہلاک کر دیتا ہے۔اور خاص طور پر اسے اتنی مہلت نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ نبوت سے بڑھ جائے۔اس مذکورہ بالا فہرست کو پیش کر کے راشد علی اور اس کے پیر نے اس مذکورہ بالا معیار صداقت کو مزید پختہ کر دیا ہے۔کیونکہ اوّل تو اس فہرست میں سے ایک بھی ایسا نہیں کہ جو سچا تھا جیسا کہ راشد علی نے خود آئندہ سطور میں اس کا اقرار کیا ہے ان میں سے ایک بھی سچا نہیں تھا۔وہ کہتا ہے۔اگر مرزا صاحب کے پیروکار اس اجتماع خسوف و کسوف کی بناء پر ان کو سچا تسلیم کرتے ہیں تو دیانتداری کا تقاضا ہے کہ ان کو گزشتہ تمام مدعیان نبوت / مسیحیت / مہدویت کو بھی سچا تسلیم کر لینا چاہئے۔“ دوسرے یہ کہ ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس نے دعویٰ کیا ہو اور اس کے بعد چاند سورج کو رمضان کے مہینہ میں حدیث میں مذکور تاریخوں کو گرہن لگا ہو جس کو اس نے اپنے دعوی کی تائید کے طور پر پیش کیا ہو۔تیسرے یہ کہ ان میں سے سوائے تین کے باقی سب میں سے کسی ایک کو 23 سال کی مہلت نہیں ملی جیسا کہ راشد علی کے دیئے گئے کوائف سے ظاہر ہے۔اب رہا ان تین مدعیان کا مسئلہ، جن کا زمانہ 23 سال سے زیادہ پیش کیا گیا ہے تو ان میں سے آخری یعنی ابو غفیر محمد بن معاذ کے دعوے کا ذکر ہی نہیں کہ وہ دعوی کیا تھا۔اس لئے اسے زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔باقی جہاں تک دو کا تعلق ہے تو ان کی تفصیل ذیل میں پیش کی جاتی ہے جو راشد علی اور اس کے پیر کو قطعی جھوٹا اور قرآن کریم کے پیش فرمودہ اصول کو مزید سچا ثابت کرتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئے نبوت و مسیحیت و مہدویت کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہے۔-1 صالح بن طریف:۔اس مدعی کا ذکر ابن خلدون جلد 6 صفحہ 207 سے شروع ہوتا ہے۔اس جگہ