شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 488 of 670

شیطان کے چیلے — Page 488

484 شخص کو مل سکے جس شخص کو خدا تعالی جانتا ہے کہ وہ ہوتا ہے ہاں اس بات کا واقعی طور پر موت ضروری ہے کہ در حقیقت اس شخص نے وحی اللہ پانے کے دعوئی میں تئیس برس کی مدت حاصل کر لی اور اس مدت میں آخیر تک کبھی خاموش نہیں رہا اور نہ اس دعوئی سے دست بردار ہوا۔سو اس امت میں وہ ایک شخص میں ہی ہوں جس کو اپنے نبی کریم ﷺ کے نمونہ پر وحی اللہ پانے میں تئیس برس کی مدت دی گئی ہے اور تئیس برس تک برابر یہ سلسلہ وحی کا جاری رکھا گیا۔“ پس کسی مامور من اللہ کی صداقت کا یہ ایک ایسا معیار ہے جو نبی اکرم ﷺ کے دربار ہی سے ( اربعین نمبر 3۔روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 408 409 ) الله تصدیق پاتا ہے اور جو اس معیار پر پورا اتر جائے اس کی صداقت میں کلام کرنا کلام الہی کو غلط ثابت کرنے کے مترادف قرار پاتا ہے۔یہ اس قدر محکم اصول ہے کہ ساری امت میں گذشتہ چودہ سوسال میں ایک مدعی بھی ایسا نہیں گذرا جو مذکورہ بالا شرائط کے اعتبار سے مفتری قرار پاتا ہو اور وہ کامیاب رہا ہو۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایسی نظیر پیش کرنے والوں کے لئے ایک خطیر رقم انعام کی بھی مقرر فرمائی آپ نے فرمایا۔اگر وہ وو ” اپنے اس دعوے میں صادق ہیں۔یعنی اگر یہ بات صحیح ہے کہ کوئی شخص نبی یا رسول اور مامورمن اللہ ہونے کا دعویٰ کر کے اور کھلے کھلے طور پر خدا کے نام پر کلمات لوگوں کو سنا کر پھر باوجود مفتری ہونے کے برابر تئیس برس تک جو زمانہ وحی آنحضرت ﷺ ہے زندہ رہا ہے تو میں ایسی نظیر پیش کرنے والے کو بعد اس کے جو مجھے میرے ثبوت کے موافق یا قرآن کے ثبوت کے موافق ثبوت دے دے پانسور و پیہ نقد دیدوں گا۔اربعین نمبر 3۔روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 402) اس چیلنج کو اُس زمانہ میں نہ حافظ محمد یوسف صاحب قبول کر سکے ، نہ اس زمانہ میں ان کے ہم مشرب راشد علی اور ان کا پیر قبول کر سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لا جواب چیلنج اس دعوی کی ٹھوس دلیل ہے کہ کبھی بھی ایسا ظہور میں نہیں آیا کہ کسی مفتری نے افترا پردازی کے بعد 23 سال کی مہلت پائی ہو۔اس کے مزید ثبوت کے لئے ہم آئمہ سلف کے دو اقتباس پیش کرتے ہیں۔اوّل۔علامہ عبد العزیز لکھتے ہیں : " وقد ادعى بعض الكذابين النبوة كمسيلمة اليمامى والاسود العنسي وسجاح