شیطان کے چیلے — Page 476
472 وو رمضان کی پہلی تاریخ کو چاند گرہن اور درمیانی تاریخ کو سورج گرہن کا ہونا جیسا کہ آپ نے دار قطنی نامی کتاب کے حوالے سے تذکرہ کیا ہے۔یہ سائنسی نقطہ نگاہ سے ناممکنات میں سے ہے، کائنات کی تخلیق سے لیکر آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا۔“ بے لگام کتاب) یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کو جھٹلایا جا ہی نہیں سکتا۔نہ کبھی ایسا ہوا ہے اور نہ ہوسکتا ہے۔پس حدیث نبوی کمال درجہ کی صحیح اور سچی حدیث ہے اور اس کا ترجمہ بھی وہی صیح اور سچا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا یعنی وو چاند کا اپنی مقررہ راتوں میں سے پہلی رات میں اور سورج کا اپنے مقررہ دنوں میں سے بیچ کے دن میں رمضان کے مہینہ میں گرہن ہوگا۔پس راشد علی اور اس کے پیر کو انہیں کئے ” مشہور ومعروف عیسائی منجم نے جھوٹا ثابت کر دیا ہے اور یہ ہرزاویہ سے اور ہر سمت سے اور ہر قدم پر جھوٹے اور کذاب ہی ثابت ہوتے ہیں۔افسوس تو اس بات پر ہے کہ عیسائی محقق منجم بھی آنحضرت ﷺ کی اس حدیث کی صداقت اور پیشگوئی کی سچائی کے واضح اور نا قابل رڈ ثبوت پیش کرتے ہیں مگر یہ نام نہاد مسلمان پیر اس پیشگوئی کو نہ صرف بار بار گہنانے کی کوشش میں مصروف ہیں بلکہ کھلم کھلا اس کی تکذیب پر بھی مصر ہیں۔وو (5) 23 سالہ معیار صداقت راشد علی اور اس کا پیر اپنی بے لگام کتاب میں لکھتے ہیں :۔دوسری طرف اگر مرزا صاحب کے پیروکار اس اجتماع خسوف وکسوف کی بناء پر ان کو سچا تسلیم کرتے ہیں تو دیانتداری کا تقاضا ہے کہ ان کو گزشتہ تمام مدعیان نبوت / مسیحیت / مہدویت کو بھی سچا تسلیم کر لینا چاہئے۔واضح ہو کہ ان میں وہ بھی ہیں جو اپنے دعوے کے بعد بھی 28 تا 47 سال اپنی قوم پر حکومت بھی کرتے رہے جو مرزا غلام احمد قادیانی کے اس فریب کا بھی پردہ چاک کرتا ہے کہ ان کے بچے ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ اپنے دعوے کے بعد وہ 23 سال سے زیادہ