شیطان کے چیلے — Page 475
471 ہو سکتا ہے۔ان دونوں قسم کے گہنوں کے لئے ضروری ہے تینوں اجسام ایک ہی سیدھ میں ہوں۔چاند کا زمین کے گرد اپنا مدار ہے۔اسی طرح زمین کا سورج (کے ) گردا اپنا ایک الگ مدار ہے۔ضروری نہیں ہے کہ ہر قمری ماہ کی پہلی اور 15 کو تینوں اس طرح ایک لائن میں ہوں سورج اور چاند گرہن ہوئے۔البتہ سال میں کماز کم دو یا گرہن کے موسم ہوتے ہیں جن میں یہ تینوں اجسام فلکی ایک لائن میں ہوتے ہیں۔چنانچہ سورج اور چاند گرہن تقریبا ہر ساڑھے پانچ ماہ بعد لگ سکتا ہے۔ڈاکٹر مکناٹن سے سوال کیا گیا کہ پچھلے 1400 سالوں میں رمضان میں چاند اور سورج گرہن کا اجتماع کتنی مرتبہ ہوا ہے؟ ڈاکٹر ڈیوڈ مکناٹن فرماتے ہیں کہ:۔اسٹرا نامی کی مختلف کتب اور کمپیوٹر کے پروگراموں کی مدد سے میں نے جو تحقیق کی تو پتہ چلا کسی بھی خاص قمری مہینے میں سورج اور چاند گرہن ہر بائیس سال کے بعد گھوم کر انہیں تاریخوں میں واقع ہوتا ہے۔چنانچہ جب میں نے دنیا کے مختلف حصوں میں ہونے والے سورج اور چاند کے جزوی اور کامل گرہنوں کے رمضان میں اجتماع کے بارے میں تحقیق کی تو پتہ چلا کہ ہر بائیس سال کے بعد باقاعدگی سے کم از کم ایک بار اور کبھی کبھی دوبارسورج اور چاند کے گرہنوں کا رمضان میں اجتماع ہوتا چلا آیا ہے۔البتہ رمضان کی پہلی تاریخ کو چاند گرہن اور درمیانی تاریخ کو سورج گرہن کا ہونا جیسا کہ آپ نے دارقطنی نامی کتاب کے حوالے سے تذکرہ کیا ہے، یہ سائنسی نقطہ نگاہ سے ناممکنات میں سے ہے ، کائنات کی تخلیق سے لیکر آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا۔را شد علی اور اس کے پیر کی جوڑی بھی کمال جوڑی ہے۔یہ دونوں ایک طرف تو یہ دعویٰ کر رہے ہیں ( بے لگام کتاب) کہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کی پہلی رات میں چاند گرہن ہوگا اور سورج گرہن رمضان کے نصف میں ہوگا۔“ دوسری طرف یہ بظاہر اپنے حق میں ایک گواہی لے کر آئے ہیں۔لیکن وہ در اصل خود ان کے اپنے ہی دعوے کے خلاف ہے اور اس کو کل یہ پامال کرتی ہے۔انہوں نے اندھا دھند ڈاکٹر مکناٹن کی مذکورہ بالا تحقیق کو اپنی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔شاباش ہو اس بے غیرت جوڑی کو، جو رسول اللہ ﷺ کی حدیث کی تکذیب کے لئے ایک عیسائی کو مدد اور گواہی کے لئے بلا کر لائے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ کی تجلی دیکھئے کہ اس عیسائی نے اپنی اس تحقیق میں جو کچھ بیان کیا ہے وہ دراصل حدیث نبوی کی صداقت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تائید میں ہی بین دلیل ہے۔فی الحقیقت اس کی اس تحقیق نے پیر ومرید کی اس جوڑی کو کلیۂ جھوٹا ثابت کر دیا ہے۔چنانچہ وہ لکھتا ہے: