شیطان کے چیلے — Page 418
416 اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے ایک دفعہ نہیں، چار مرتبہ آنے والے موعود مسیح کے ساتھیوں کے لئے اصحاب یعنی صحابہ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔پس یہ مسیح موعود علیہ السلام نے نہیں خود رسول اللہ علی نے ان کو صحابی قرار دیا ہے اور اگر اس سے متوازی امت قائم ہو جاتی ہے تو پھر یہ خود رسول اللہ ﷺ نے قائم فرمائی ہے۔ii۔ام المومنین کی مثال بھی راشد علی کی احمقانہ تلیس کی ایک عجیب مثال ہے۔یہ سوال بھی عقلاً اس موقع پر اٹھ سکتے ہیں کہ کیا امہات المومنین کے سوا جو یقیناً ازواج رسول اللہ ﷺ ہیں کسی اور امتی کی زوجہ کو ام المومنین کہنا جائز ہے کہ نہیں؟ دوسرا سوال عقلاً یہ اٹھتا ہے کہ جب احمدی حضرات بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی زوجہ محترمہ کو ام المومنین کہتے ہیں تو ساری امت محمدیہ میں آغاز سے لے کر قیامت تک وہ مومنوں کی ماں ہیں یا ام المومنین سے مراد جماعت احمدیہ سے منسلک وہ مومنین ہیں جو فی الحقیقت حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی زوجہ کا ایک سچی ماں کی طرح احترام کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات کا ہمسر اور شریک نہیں سمجھتے ؟ جہاں تک اس دوسری بات کا تعلق ہے یہ تو ہر معقول آدمی سمجھ جائے گا کہ اس احمدی موقف کو دنیا کے سامنے دیانتداری کے ساتھ پیش کیا جائے تو کسی کے نزدیک قابل اعتراض نہیں ہوسکتا۔باقی جہاں تک پہلے پہلو کا تعلق ہے ہم یہ بات خوب کھول دینا چاہتے ہیں کہ امت محمدیہ میں ایسی دوسری مثالیں بھی موجود ہیں جن سے ثابت ہو جائے گا کہ اولیاء اور صالحین کی ازواج کو ام المومنین کہا جا سکتا ہے۔بلکہ بعض دیگر عورتوں کو بھی ام المومنین کہا گیا۔چنانچہ 1- گلدستہ کرامات مولفہ مفتی غلام سرور صاحب مطبوعہ مطبع افتخار دہلی کے صفحہ 18 پر حضرت سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی والدہ محترمہ کو ام المومنین کہا گیا ہے۔2 اشارات فریدی حصہ دوئم صفحہ 91 مطبوعہ مفید عام پریس آگرہ 1321ھ میں حضرت خواجہ جمال الدین ہانسوی کی اہلیہ محترمہ کو ام المومنین لکھا ہے۔-3 سیر الاولیاء تالیف سید محمد بن مبارک کرمانی میسر خورد کے صفحہ 187 پر لکھا ہے کہ حضرت شیخ جمال