شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 387 of 670

شیطان کے چیلے — Page 387

385 کہیں ) کسی اور ریاست کی محکوم رعایا ہونا نہیں چاہتے سوائے انگریز کے۔جہاں تک شیعوں کا تعلق ہے وہ بھی ایسی ہی تحریریں پیش کرتے رہے۔علامہ علی حائری کا ایک اقتباس ہے جو موعظہ تحریف قرآن۔لاہور 1923 ء مرتبہ محمد رضی الرضوی التھی میں درج ہے اس میں بھی اسی مضمون کی باتیں بیان کی گئی ہیں۔انگریزوں کی نگاہ فیض اثر کا ملتجی مولانا ظفر علی خان جو ایک وقت میں احرار کے ساتھ منسلک تھے اور بعد میں ان کو ملک و وطن اور اسلام کا غذ ارقرار دیاوہ ایک لمبے تجربہ کے بعد لکھتے ہیں: وو مسلمان۔۔۔۔ای لمحہ کے لئے بھی ایسی حکومت سے بدظن ہونے کا خیال نہیں کر سکتے (یعنی انگریزوں سے ناقل اگر کوئی بد بخت مسلمان ، گورنمنٹ سے سرکشی کرے تو ہم ڈنکے کی چوٹ سے کہتے ہیں کہ وہ مسلمان مسلمان نہیں۔“ (اخبار زمیندار لاہور 11 نومبر 1911ء) یہ ہے فتویٰ کہ حکومت برطانیہ کی سرکشی کرنے والا مسلمان ، مسلمان ہی نہیں رہتا۔پھر فرماتے ہیں: ” اپنے بادشاہ عالم پناہ کی پیشانی کے ایک قطرے کی بجائے اپنے جسم کا خون بہانے کے لئے تیار ہیں اور یہی حالت ہندوستان کے تمام مسلمانوں کی ہے۔“ (اخبار زمیندار لاہور 23 نومبر 1911ء) کیا یہ حالت تھی جسے بدلنے کے لئے انگریزوں نے یہ خود کاشتہ پودا کھڑا کیا تھا ؟ پھر نظم کی صورت میں فرماتے ہیں: جھکا فرط عقیدت ނ مرا ہوا تذکره کنگ ایمپرر کا جلالت کو ہے کیا کیا ناز اس پر شاهنشاه ہے وہ بحر و کا قسمت رہے جو ہو اک گوشہ حاصل ہمیں اس کی نگاہ فیض اثر کا زمیندار 19 اکتوبر 1911ء)