شیطان کے چیلے — Page 386
384 جن لوگوں نے حوادث کے اس زمانے میں نسخ جہاد کی تاویلوں کے علاوہ أَطِيعُوا الــلــه وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَأُوْلِى الاَمْرِ مِنْكُمْ میں اولی الامر کا مصداق انگریزوں کو ٹھہرایا ان میں مشہور انشاء پرداز ڈپٹی نذیر احمد کا نام بھی ہے۔“ (كتاب " عطاء اللہ شاہ بخاری ، صفحہ 531) انگریزی حکومت ، باعث افتخار اب سنیئے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے انگریزی سلطنت کے متعلق خیالات۔وہ لکھتے ہیں : ” سلطان روم ایک اسلامی بادشاہ ہے لیکن امن عامہ اور حسن انتظام کے لحاظ سے ( مذہب سے قطع نظر ) برٹش گورنمنٹ بھی ہم مسلمانوں کے لئے کچھ کم فخر کا موجب نہیں ہے اور خاص گروہ اہل حدیث کے لئے تو یہ سلطنت بلحاظ امن و آزادی اس وقت کی تمام اسلامی سلطنتوں (روم، ایران،خراسان) سے بڑھ کر فخر کا محل ہے۔“ (رسالہ اشاعۃ السنة - جلد 6 نمبر 10 صفحہ 292 ،293) ی تھی کل تک ان لوگوں کی زبان ! پھر فرماتے ہیں: اس امن و آزادی عام و حسن انتظام برٹش گورنمنٹ کی نظر سے اہل حدیث ہند اس سلطنت کو از بس غنیمت سمجھتے ہیں اور اس سلطنت کی رعایا ہونے کو اسلامی سلطنتوں کی رعایا ہونے سے بہتر جانتے ہیں۔66 (رسالہ اشاعۃ السنتہ - جلد 6 نمبر 10 صفحہ 292 293) یہ لوگ آج کہہ رہے ہیں کہ احمدیوں کو چونکہ اسلامی سلطنتیں پسند نہیں اس لئے یہ انگریزی راج میں پینے ، وہیں بڑھے اور چاہتے تھے کہ وہی حکومت ہمیشہ کے لئے رہے لیکن خود ان کے آباء واجداد تو کل تک یہ فرمایا کرتے تھے کہ : اسلامی سلطنتوں کی رعایا ہونے سے بہتر جانتے ہیں۔“ اب دیکھ لیجئے ان تحریروں میں ایسا کوئی ذکر نہیں ہے جیسا کہ حکومت کی تعریف سے متعلق مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وجہ بیان فرمائی ہے کہ اس نے سکھوں کے مظالم سے نجات بخشی ، مذہبی آزادی دی اس لئے ہم تعریف کرتے ہیں مگر ان لوگوں کو تو ایسی وجوہات کے بغیر ہی انگریزی حکومت اسلامی سلطنتوں سے کل تک بہتر نظر آ رہی تھی اور اہلحدیث جہاں کہیں وہ رہیں اور جائیں ( عرب میں خواہ روم میں خواہ اور