شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 388 of 670

شیطان کے چیلے — Page 388

386 اصل یہ ہے جھوٹی تعریف اور کچی خوشامد پر مبنی نظم ونثر کی صورت میں کاسہ گدائی جو مسلمان لیڈروں نے انگریز کے آگے پھیلایا۔مسلمان علماء کی منافقانہ چالیں پس یہ تو ہے ان لوگوں کا اپنا کردار اور ان کا ماضی ، جو آج احمدیت پر بڑھ بڑھ کر الزام لگا رہے ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو صرف یہی ضرورت نہیں تھی کہ حسن خلق کے نتیجہ میں ایک محسن حکومت کا شکر یہ ادا کریں بلکہ بعض ایسی وجوہات بھی تھیں جو خود مخالفین کی پیدا کردہ تھیں۔ایک طرف تو یہ علماء مسلمانوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف بھڑکاتے تھے کہ آپ انگریز کی تعریف کرتے ہیں اور جہاد کے منکر ہیں جبکہ یہ حکومت اس لائق ہے کہ اس سے جہاد کیا جائے اور اسے ختم کیا جائے ، تباہ و بربادکر دیا جائے۔دوسری طرف انگریزوں کی تعریف میں وہ کلمات لکھ رہے تھے جو ابھی آپ نے ملاحظہ فرمائے ہیں۔اور تیسری طرف انگریزوں کو خفیہ بھی اور شائع شدہ درخواستیں بھی پیش کر رہے تھے کہ یہ نہایت ہی خطر ناک آدمی ہے اس کی باتوں میں نہ آجانا ، یہ امام مہدی ہونے کا دعویدار ہے اور خونی مہدی ہے جو ساری انگریزی سلطنت کو تباہ کرنے کے لئے اٹھا ہے۔اس قدر منافقت ،ظلم اور جھوٹ کہ ایک طرف مسلمانوں میں یہ اعلان ہو رہا ہے کہ انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے اور دوسری طرف انگریز کو یہ خبریں پہنچائی جا رہی ہیں کہ یہ تو تمہاری قوم کا دشمن ہے اور تمہیں تباہ و برباد کرنے کے لئے اٹھا ہے اس لئے اس کو ہلاک کر دو۔چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی رسالہ اشاعۃ السنہ جلد 6 حاشیہ صفحہ 4 پر رقم طراز ہیں : ” اس کے ( یعنی مرزا غلام احمد صاحب قادیانی۔ناقل ) دھوکہ ہونے پر یہ دلیل ہے کہ دل سے وہ گورنمنٹ غیر مذہب کی جان مارنے اور اس کا مال لوٹنے کو حلال اور مباح جانتا ہے دلیل بھی کیسی کمال کی ہے کہ دل سے جانتا ہے۔“ 66 لہذا گورنمنٹ کو اس کا اعتبار کرنا مناسب نہیں اور اس سے پر حذر رہنا ضروری ہے ورنہ اس مهدی قادیانی سے اس قدر نقصان پہنچنے کا احتمال ہے جو مہدی سوڈانی سے بھی نہیں پہنچا۔“ منشی محمد عبد اللہ صاحب انگریزوں کو مخاطب کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف متنبہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: