شیطان کے چیلے — Page 292
291 مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: خاتم النبین ہونا ہمارے نبی ﷺ کا کسی دوسرے نبی کے آنے سے مانع ہے۔ہاں ایسا نبی جو مشکوۃ نبوت محمدیہ سے نور حاصل کرتا ہے اور نبوت تامہ نہیں رکھتا جس کو دوسرے لفظوں میں محدّث بھی کہتے ہیں وہ اس تحدید سے باہر ہے کیونکہ وہ باعث اتباع اور فنافی الرسول ہونے کے جناب ختم المرسلین کے وجود میں ہی داخل ہے جیسے جز کل میں داخل ہوتی ہے۔“ نیز فرمایا: (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 140) ” مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبین نہیں صلى الله مانتے یہ ہم پر افترائے عظیم ہے۔ہم جس قوت ، یقین ، معرفت اور بصیرت سے آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں اس کا لاکھواں حصہ بھی دوسرے لوگ نہیں مانتے اور ان کا ایسا ظرف بھی نہیں ہے۔وہ اس حقیقت اور راز کو جو خاتم الانبیاء کی ختم نبوت میں ہے سمجھتے ہی نہیں ہیں ، انہوں نے صرف باپ دادا سے ایک لفظ سنا ہوا ہے مگر اس کی حقیقت سے بے خبر ہیں اور نہیں جانتے کہ ختم نبوت کیا ہوتا ہے اور اس پر ایمان لانے کا مفہوم کیا ہے؟ مگر ہم بصیرت تام سے (جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ) آنحضرت ﷺ کو ختم الانبیاء یقین کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے ہم پر ختم نبوت کی حقیقت کو ایسے طور پر کھول دیا ہے کہ اس عرفان کے شربت سے جو ہمیں پلایا گیا ہے ایک خاص لذت پاتے ہیں جس کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا بجز ان لوگوں کے جو اس چشمہ سے سیراب ہوں۔“ ( ملفوظات۔جلد اول صفحہ 342) وقت اور زمانے کے لحاظ سے سب سے آخر میں مبعوث ہونے میں کسی کی کوئی فضیلت ثابت نہیں ہو سکتی۔چنانچہ مولانامحمد قاسم نانوتوی بانی مدرسہ دارالعلوم دیو بند فرماتے ہیں۔وو عوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلعم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانے کے بعد اور آپ سب سے آخری نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تاخیر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔پھر مقامِ مدح میں وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّين فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہوسکتا ہے ہاں اگر اس وصف کو اوصاف مدح میں سے نہ کہئے اور اس مقام کو مقام مدح قرار نہ