شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 232 of 670

شیطان کے چیلے — Page 232

231 ہیں مگر راشد علی کو خدا تعالے کا یہ طرز کلام صرف پسند ہی نہیں بلکہ اس کے نزدیک سخت قابلِ اعتراض بھی ہے۔(10) دعوت اعجاز نمائی پر اعتراض اور پنڈت دیا نند کی وکالت را شد علی اور اس کا پیر پھر اپنی ” بے لگام کتاب میں از راہ تبلیس رقمطراز ہیں۔وو قادیانی معجز نمائیاں :۔مرزا صاحب نے اعلان کیا کہ جو کوئی اسلام کی حقانیت کا نشان دیکھنا چاہے وہ ایک سال قادیان میں ان کے ساتھ قیام کرے۔اس عرصے میں کچھ نہ کچھ دیکھ لے گا۔اگر کوئی نشان ظاہر نہ ہوا تو 100 روپے حرجانہ مرزا صاحب ادا کریں گے مگر اللہ کے فضل سے یہ نام نہاد مسیح موعود چونکہ خود کسی قسم کے معجزات دکھانے پر قادر نہ تھے اس لئے ہر وہ ہتھکنڈہ تاویل پیش کرتے تھے جس سے ان کی جان چھوٹ جائے اور ان کو کسی قسم کا خارق عادت معجزہ نہ دکھلانا پڑے۔مرزا صاحب کی بدقسمتی سے آریہ سماج کے پنڈت دیانند صاحب تیار ہو گئے کہ 100 روپے مرزا صاحب کسی بینک میں جمع کرا دیں۔وہ ایک سال قادیان میں رکیں گے۔جب مرزا صاحب نے دیکھا کہ یہ بلا تو گلے ہی پڑ گئی ہے تو نت نئی اور غیر معقول شرائط عائد کرنا شروع کر دیں۔مثلاً اس ایک سال میں پورے ہندوستان سے کوئی دوسرا آریہ ہندو مرزا صاحب سے شرط کے مطابق پیسوں کا مطالبہ نہیں کرے گا۔دوسری شرط یہ عائد کی کہ نشان دیکھنے کے بعد اگر مسلمان نہ ہو تو جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔تیسری شرط یہ تھی کہ نشان دیکھنے کے بعد پنڈت صاحب کے تمام معتقدین اسلام کی حقانیت کا اقرار کریں ورنہ جرمانہ ادا رئیس قادیان ج اول ص 100 ) و کریں۔اگر حضور ملکہ معظمہ میرے تصدیق دعوے کے لئے مجھ سے نشان دیکھنا چاہئیں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ ابھی ایک سال پورا نہ ہو کہ وہ نشان ظاہر ہو جاوے۔لیکن اگر کوئی نشان ظاہر نہ ہو اور میں جھوٹا نکلوں تو میں اس سزا میں راضی ہوں کہ حضور ملکہ معظمہ کے پایہ تخت کے آگے پھانسی دیا جاؤں۔“ (تحفہ قیصر بدروحانی خزائن جلد 12 صفحہ 276 حاشیہ “ (i) حقیقت یہ ہے کہ راشد علی اور اس کے پیر کا خون کھول اٹھتا ہے جب وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اسلام کے فتح نصیب جرنیل کی شان میں دیکھتے ہیں اور وہ بہت ہی تلملاتے ہیں جب آپ دیگر مذاہب کے مذہبی اور سیاسی راہنماؤں اور بادشاہوں کو مخاطب کر کے، ان پر اسلام کی حجت قائم فرماتے ہیں۔