شیطان کے چیلے — Page 233
232 پہلے تو یہ پیر اور مرید عیسائیوں کے لئے اپنی غیرت کا اظہار کرتے تھے اب ہندوؤں کی وکالت میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف منہ میں کف بھرنے لگے ہیں۔اول تو مذکورہ بالا کتاب ” رئیس قادیان ، جس کا انہوں نے حوالہ دیا ہے، ہرگز جماعت احمدیہ کے لئے تجت نہیں ہے۔اسکی کسی عبارت کو وجہ اعتراض نہیں بنایا جاسکتا۔دوم یہ کہ جو کچھ راشد علی اور اس کے پیر نے اس کتاب کے حوالہ سے لکھا ہے تلبیس کو بروئے کار لاتے ہوئے حقائق کو چھپا کر لکھا ہے۔اصل واقعہ کیا تھا؟ اسلام کو اس موقع پر ہندوؤں پر کیا فوقیت حاصل ہوئی اس کی مختصر اور کچی روئیداد یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پنڈت دیانند صاحب بانی آریہ سماج سے روحوں کے بے انت ہونے پر ایک تحریری مباحثہ اخبارات میں 1878ء سے چل رہا تھا۔پنڈت دیانند جی نے بالمواجہ مباحثہ کے لئے بھی پیغام بھیجا۔چنانچہ ان کے الفاظ یہ تھے۔اگر ہمارے اس جواب میں کچھ شک ہو تو بالمواجہ بحث کرنی چاہئے۔اس بارہ میں ان کا ایک خط بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں آیا۔اس خط میں انہوں نے بحث کا شوق ظاہر کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس پر یہ اعلان فرمایا کہ یہ بحث بالمواجہہ ہم کو بسر و چشم منظور ہے ! سوامی جی کو مقام بحث اور ثالث بالخیر اور انعقاد جلہ کی تجویز بذریعہ اخبار مشتہر کرنے کی دعوت دی گئی مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔یہ تمام خطوط مکتوبات احمد - جلد دوم میں چھپ چکے ہیں۔اس کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ سوامی جی نے پہلے تو روحوں کے بے انت ہونے کے مسئلہ کو ترک کر دیا اور دوسرے یہ کہ مباحثہ کے لئے انہیں ہمت اور حوصلہ نہ ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے اعلان میں یہ بھی لکھ دیا تھا کہ اگر سوامی صاحب نے اس اعلان کا کوئی جواب مشتہر نہ کیا تو بس یہ سمجھو کہ سوامی صاحب وو۔صرف باتیں کر کے اپنے موافقین کے آنسو پونچھتے ہیں“ باوجود غیرت دلانے والے ان الفاظ کے بھی سوامی جی میدان میں نہ آئے۔ان کی شکست کا متین ثبوت یہ بھی ہے کہ ان کی زندگی کے حالات لکھنے والے ان واقعات کوسرے سے ہی ہضم کر گئے۔بہرحال حضرت اقدس نے یہ اعلان 10 جون 1878ء کو کیا تھا جس پر سوامی جی خاموش رہے۔بالآخر 9 فروری