شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 218 of 670

شیطان کے چیلے — Page 218

217 پھرا اور الہام الہی کا رعب اور اثر اس کے دل پر ایسا مستولی ہوا کہ راتیں ہولناک اور دن بیقراری سے بھر گئے۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے دل کے تصوروں نے عظمت اسلامی کورڈ نہ کیا بلکہ قبول کیا۔اس لئے وہ خدا جو رحیم و کریم اور سزا دینے میں دھیما ہے اور انسان کے دل کے خیالات کو جانچتا اور اس کے تصورات کے موافق اس سے عمل کرتا ہے اس نے اس کو اس صورت پر بنایا جس صورت میں فی الفور کامل ہاویہ کی سزا یعنی موت بلا توقف اس پر نازل نہ ہوتی۔اور ضرور تھا کہ وہ کامل عذاب اس وقت تک تھمار ہے جب تک کہ وہ بے باکی اور شوخی سے اپنے ہاتھ سے اپنے لئے ہلاکت کے اسباب پیدا نہ کرے اور الہام الہی نے بھی اسی طرف اشارہ 66 کیا تھا کیونکہ الہامی عبارت میں شرطی طور پر عذاب موت کے آنے کا وعدہ تھا۔نہ مطلق بلاشرط وعدہ۔“ نیز تحریر فرمایا: وو (انوار الاسلام۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 5,4) یہ غیر ممکن ہے کہ خدا اپنے قرار دادہ وعدہ کو بھول جائے کیونکہ شرائط کا لحاظ رکھنا صادق کے لئے ضروری ہے اور خدا اصدق الصادقین ہے۔ہاں جس وقت مسٹر عبد اللہ آتم اس شرط کے نیچے سے اپنے تئیں باہر کرے اور اپنے لئے شوخی اور بے باکی سے ہلاکت کے سامان پیدا کرے تو وہ دن نزدیک آجائیں گے اور سزائے ہادیہ کامل طور پر نمودار ہوگی اور یہ پیشگوئی عجیب طور پر اپنا اثر دکھائے گی۔“ 66 (انوار الاسلام۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 5) ان تحریروں سے یہ بات بالکل کھل جاتی ہے کہ عبد اللہ آتھم نے پیشگوئی میں مذکور شرط بشر طیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے“ سے فائدہ اٹھایا اور ابتدائی طور پر خدا تعالیٰ کے رحم کے نیچے آ گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کو اس صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے غیر مبہم الفاظ میں تنبیہ کر دی تھی کہ اب اس پیشگوئی کی معین اور آخری صورت یہ ہے کہ بے باکی اور شوخی کے ظہور پر یعنی رجوع الی الحق کے ماننے سے انکار کرنے پر یا رجوع الی الحق کی صورت کو کسی تدبیر سے مشتبہ بنانے کی صورت میں اس کی ہلاکت کے دن نزدیک آجائیں گے اور پھر موت کے ذریعہ سزائے ہاویہ کا وہ جلد شکار ہو جائے گا۔اور پیشگوئی کا اثر غیر معمولی رنگ میں ظاہر ہوگا۔گویا اب یہ پیشگوئی پادری ڈپٹی عبد اللہ آتھم کی بے باکی اور شوخی سے معلق ہوگئی۔ادھر حالات یہ پیدا ہوئے کہ جب عبد اللہ آتھم رجوع الی الحق کی شرط سے فائدہ اٹھا کر پندرہ ماہ