شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 217 of 670

شیطان کے چیلے — Page 217

216 فرماتے ہیں: میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ آج کی تاریخ سے پندرہ ماہ میں بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔مجھے ذلیل کیا جائے۔روسیاہ کیا جائے۔میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جائے۔مجھ کو پھانسی دی جائے۔میں ہر سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔“ یہ پیشگوئی ایسی پر ہیبت تھی کہ پادری عبد اللہ آتھم لرز کر رہ گیا۔یہ اس کی طرف سے رجوع الی الحق کا آغاز تھا۔اور اس کے بعد، مرتے دم تک اس نے ایک لفظ بھی اسلام یا آنحضرت ﷺ کے خلاف نہ لکھا۔اس نے اس حد تک رجوع الی الحق کیا کہ وہ دلی طور پر عیسائیوں کے عقیدہ الوہیت مسیح سے بھی متفق نہ رہا۔چنانچہ اس نے اخبار ” نور افشاں 21 ستمبر 1894ء کی اشاعت میں یہ اعلان بھی شائع کرایا کہ وہ عیسائیوں کے عقیدہ ابنیت والوہیت کے ساتھ متفق نہیں۔اس کے خوف سے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اطلاع دی۔جس کا ذکر آپ نے اپنی کتاب انوار الاسلام صفحہ 2 ،3 پر تحریر فرمایا۔پس عبد اللہ آتھم نے پیشگوئی کے الہامی الفاظ بشر طیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے“ سے فائدہ اٹھایا اسلئے خدا تعالیٰ نے اسے مہلت دی اور وہ پندرہ ماہ کے اندر نہ مرا۔اس عرصہ میں وہ انتہائی ہم وغم میں مبتلا رہا یہانتک کہ اس پر دیوانہ پن کی حالت طاری ہوگئی اور وہ مسلسل اسی اذیت ناک حالت میں رہا۔اس کی اس حالت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: الہامی پیشگوئی کے رعب نے اس کے دل کو ایک کچلا ہوا دل بنادیا۔یہانتک کہ وہ سخت بے تاب ہوا اور شہر بشہر اور ہر ایک جگہ ہراساں اور ترساں پھرتا رہا اور اس مصنوعی خدا پر اس کا تو کل نہ رہا جس کو خیالات کی کجی اور ضلالت کی تاریکی نے الوہیت کی جگہ دے رکھی ہے۔وہ کتوں سے ڈرا اور سانپوں کا اس کو اندیشہ ہوا اور اندر کے مکانوں سے بھی اس کو خوف آیا اور اس پر خوف اور وہم اور دلی سوزش کا غلبہ ہوا اور پیشگوئی کی پوری ہیبت اس پر طاری ہوئی اور وقوع سے پہلے ہی اس کا اثر اس کو محسوس ہوا اور بغیر اس کے کہ کوئی اس کو امرتسر سے نکالے آپ ہی ہراسان و ترسان و پریشان اور بے تاب ہو کر شہر بشہر بھاگتا پھرا۔اور خدا نے اس کے دل کا رام چھین لیا اور پیشگوئی سے سخت متاثر ہو کر سراسیموں اور خوفزدوں کی طرح جا بجا بھٹکتا