شیطان کے چیلے — Page 219
218 کے اندر مرنے سے بچ گیا تو عیسائیوں نے اپنی جھوٹی فتح کا نقارہ بجایا، جلوس نکالے اور خوب شور وشتر اور ہنگامہ آرائی کی اور مسیح موعود علیہ السلام کی شان میں گستاخانہ رویہ اختیار کیا اور بعض سادہ لوح مسلمان بھی اور آپ سے بغض رکھنے والے راشد علی جیسے لوگ بھی ان کے ہمنوا بن گئے۔ان حالات میں خدا تعالیٰ سے الہام پا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عبد اللہ آتھم کو مباہلہ کا چیلنج دیا اور اس کے ساتھ ایک ہزار روپیہ کا انعام بھی رکھا۔اس دعوت مباہلہ میں آپ نے اسے یہ بھی لکھا کہ اگر وہ وو۔۔۔تین مرتبہ ان الفاظ کا اقرار کریں کہ اس پیشگوئی کے عرصہ میں اسلامی رعب ایک طرفہ العین کے لئے بھی میرے دل پر نہیں آیا اور میں اسلام اور نبی اسلام " کو ناحق سمجھتا رہا اور سمجھتا ہوں اور صداقت کا خیال تک نہیں آیا اور حضرت عیسی کی ابنیت اور الوہیت پر یقین رکھتا رہا اور رکھتا ہوں اور ایسا ہی یقین جو فرقہ پروٹسٹنٹ عیسائی رکھتے ہیں اور اگر میں نے خلاف واقعہ کہا ہے اور حقیقت کو چھپایا ہے تو اے قادر! مجھ پر ایک برس میں عذاب موت نازل کر۔اس دعا پر ہم آمین کہیں گے اور اگر دعا کا ایک سال تک اثر نہ ہوا اور وہ عذاب نازل نہ ہوا جو جھوٹوں پر نازل ہوتا ہے تو ہم ہزار روپیہ مسٹرعبداللہ آتھم صاحب کو بطور تاوان دیں گے۔“ (انوار الاسلام۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 6) یہ ایک فیصلہ کن اور جامع پیشکش تھی جس سے نہ فرار کی کوئی راہ اس کے لئے باقی رہتی تھی اور نہ حق کو چھپانے کا کوئی حیلہ۔اس پیشکش کے آخر میں آپ نے یہ اعلان بھی فرمایا: پس یقینا سمجھو کہ اسلام کو فتح حاصل ہوئی اور خدا تعالیٰ کا ہاتھ بالا ہوا اور کلمہ اسلام اونچا ہوا اور عیسائیت نیچے گری۔“ پادری عبد اللہ آتھم نے اس سے گریز کی راہ اختیار کی تو آپ نے اسے دو ہزار روپیہ کا چیلنج دیا۔اس کو بھی قبول کرنے کی اس میں جرات نہ ہوئی لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اپنے رجوع الی اللہ کو ظاہر کرنے کی بھی ہمت نہ کر سکا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کو تیسرا چیلنج دیا جو تین ہزار روپیہ کا تھا۔اس میں آپ نے اس پر تجبت تمام کرنے کے لئے اسے مؤکد بعذاب قسم کھانے کی بھی تحریض کی۔پادری عبد اللہ آتھم نے اس چینج پر اپنے دو عذر پیش کئے۔اوّل یہ کہ قسم کھانا ان کے مذہب میں ممنوع ہے۔دوم یہ کہ پیشگوئی کے زمانہ میں وہ ڈرے تو ضرور ہیں مگر پیشگوئی کے اثر سے نہیں بلکہ اس لئے کہ