شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 208 of 670

شیطان کے چیلے — Page 208

207 المدحضین“ بھی بیان ہوا ہے۔( ملاحظہ فرمائیں۔جلد 8 صفحہ 128۔مطبوعہ دارالفکر العربی ) چونکہ یہ لوگ اپنی تو بہ اور رجوع الی اللہ میں مخلص تھے اور اس پر پھر ہمیشہ قائم رہے اس لئے ان سے عذاب بھی مستقلاً ٹلا رہا اور خدا تعالیٰ نے ان سے اپنی پہلی سنت کے مطابق معاملہ کیا۔خدا تعالیٰ کی دوسری سنت کا سلوک فرعون اور آل فرعون میں دکھائی دیتا ہے کہ آل فرعون جب عذاب آنے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دعا کی درخواست کرتی تھی اور ایمان لانے کا وعدہ کرتی تھی تو خدا تعالیٰ ان سے عذاب ٹال دیتا تھا۔پھر چونکہ وہ اپنے وعدہ پر قائم نہیں رہتی تھی اس لئے پھر عذاب میں پکڑی جاتی تھی۔بالآخر آل فرعون مع فرعون تو بہ پر قائم نہ رہنے کی وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کا تعاقب کرنے پر موعودہ عذاب میں پکڑی گئی اور سمندر میں غرق ہو گئی۔اس قوم سے خدا تعالیٰ نے اپنی دوسری سنت یعنی تأخیر عذاب کے مطابق سلوک کیا۔پیشگوئی میں اجتہادی خطا بسا اوقات اللہ تعالیٰ کی طرف سے شرط کے مذکور نہ ہونیکی وجہ سے یا شرط کی طرف سے بھول ہو جانے کے باعث پیشگوئیوں میں اجتہادی خطا واقع ہو سکتی ہے۔ایسی اجتہادی خطا قابلِ اعتراض نہیں ہوتی۔چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام سے وحی الہی کے سمجھنے میں اجتہادی غلطی ہوئی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے حَتَّى إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُوْرُ قُلْنَا احْمِلْ فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ۔(بود: 41) ترجمہ:۔یہانتک کہ جب ہمارا فیصلہ آپہنچا اور بڑے جوش سے چشمے پھوٹ پڑے تو ہم نے (نوح سے ) کہا کہ اس (کشتی) میں ہر قسم کے جوڑوں میں سے دو دو سوار کر اور اپنے اہل کو بھی سوائے اس کے جس کے خلاف فیصلہ گزر چکا ہے اور (اسے بھی سوار کر ) جوایمان لایا ہے۔اور اس سے قبل حضرت نوح علیہ السلام کو یہ حکم دیا جا چکا تھا وَلَا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا إِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ 0 ( بود:38) ترجمہ:۔اور جن لوگوں ظلم کیا ان کے بارہ میں مجھ سے کوئی بات نہ کر۔یقیناً وہ غرق کئے جانے والے ہیں۔