شیطان کے چیلے — Page 209
208 حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا جب غرق ہونے لگا تو انہوں نے خدا تعالیٰ کو اس کا وعدہ یاد دلایا اور کہا إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِيْ وَ إِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ (هود: 46) ترجمہ:۔یقیناً میرا بیٹا بھی میرے اہل سے ہے اور تیرا وعدہ ضرور سچا ہے۔( یعنی اسے وعدہ کے مطابق بچنا چاہئے) یہ وعدہ یاد دلانے میں حضرت نوح علیہ السلام کو پیشگوئی کی اس شرط سے ذہول ہو گیا جو الا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ اور وَلَا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا إِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ “ کے الفاظ میں بیان ہوئی تھی۔اور وہ غلطی سے یہ سمجھ بیٹھے کہ خدائی وعدہ کے مطابق میرا یہ بیٹا بھی غرق ہونے سے بچنا چاہئے لیکن ان کا یہ اجتہاد درست نہ تھا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے ان کے وعدہ یاد دلانے پر انہیں یہ جواب دیا کہ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ، فَلَا تَسْتَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ج إِنِّى أَعِظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَهِلِيْنَ 0 (هود:47) ترجمہ:۔یقینا وہ تیرے اہل میں سے نہیں۔بلاشبہ وہ تو سراپا ایک نا پاک عمل تھا۔پس مجھ سے وہ نہ مانگ جس کا تجھے کچھ علم نہیں۔میں تجھے نصیحت کرتا ہوں مبادا تو جاہلوں میں سے ہو جائے۔پس پیشگوئی کرنے والے سے کسی شرط کا نظر انداز ہو جانا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ اپنے دعاوی میں من جانب اللہ نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مرزا سلطان محمد کے متعلق اڑہائی سالہ میعاد گزر جانے کے بعد اس پیشگوئی کے شرط تو بہ والے الہام یعنی "أيتها المرأة تـوبـي تـوبى فان البلاء على عقبك و الـمـصـيـبـة نـازلـة علیک“ کے نظر انداز ہو جانے کی وجہ سے اصل پیشگوئی کے الہامی الفاظ لا مبدل لكلمات الله کے پیش نظر اجتہاد کیا کہ پیشگوئی میں تاخیر ڈال دی گئی ہے، یہ لی نہیں۔اس لئے آپ نے اس قسم کی عبارتیں یقین اور وثوق پر مشتمل تحریر فرما ئیں کہ محمدی بیگم کا خاوند ضرور مرے گا اور وہ بیوہ ہو کر آپ کے نکاح میں آئے گی۔ایسی عبارتیں کسی جدید الہام پر مبنی نہ تھیں کیونکہ پیشگوئی کی اڑ ہائی سالہ میعاد گزر جانے کے بعد 1906ء تک آپ کو اس بارہ میں کوئی نیا الہام نہیں ہوا اور الہام "لا تبديل لكلمات اللہ جس اشتہار میں درج تھا اسی کے تتمہ میں پیشگوئی کی الہامی شرط تو بہ بھی ايتها المرأة توبى توہی۔۔۔۔“ والے الہام میں درج تھی مگر اس شرط کی طرف عدم توجہ کی وجہ سے حضرت اقدس نے یہی