شیطان کے چیلے — Page 207
206 احمدیت کو قبول کیا۔یہاں خدا تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ ” مَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ (الانفال : 34) ترجمہ:۔اللہ ان لوگوں کو عذاب دینے والا نہیں ہے اس حال میں کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔خدا تعالیٰ کے اس قانون کے مطابق اب مرزا سلطان محمد پر عذاب صرف اسی صورت میں نازل ہوسکتا تھا کہ وہ تو بہ کوتوڑ دیتا اور پیشگوئی کی تکذیب کر دیتا اور پھر اس کی موت کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے نئی میعاد مقرر ہوتی۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کتاب انجام آتھم کے صفحہ 23 پر نکاح کی پیشگوئی کو مرزا سلطان محمد کی طرف سے آئندہ اس پیشگوئی کی تکذیب کرنے اور بیبا کی اور شوخی دکھانے سے اور اس کے لئے نئی میعاد مقرر ہونے سے معلق قرار دے دیا۔ایسا ہونا اس لئے ضروری تھا کہ یہ امکان ابھی باقی تھا کہ مرزا سلطان محمد کسی وقت اگر تکذیب کر دیتا تو پیشگوئی میں لوگوں کے لئے اشتباہ پیدا ہو جاتا۔وعیدی پیشگوئی کی اصل غرض چونکہ تو بہ اور استغفار اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع دلا نا اور خدا تعالیٰ کی عظمت کا سکہ دلوں پر بٹھانا اور اصلاح ہوتی ہے اس لئے جب یہ شرط پوری ہو جائے تو پھر سنت اللہ کے مطابق عذاب بالکل ٹل جایا کرتا ہے۔اور اگر انہوں نے تو بہ پر قائم نہ رہنا ہو تو پھر سنت اللہ یوں ہے کہ عذاب میں اس وقت تک تاخیر ہو جاتی ہے کہ وعیدی پیشگوئی کے متعلقین پھر بے باکی اور شوخی دکھاتے ہوئے تو بہ توڑ دیں۔چنانچہ ملاحظہ فرمائیں حضرت یونس علیہ السلام اور وعیدی پیشگوئی کتب تفاسیر میں لکھا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کو وعید کرتے ہوئے یہ پیشگوئی کی تھی: " ان اجلكم اربعون ليلة کہ تمہاری مدت چالیس راتیں ہیں۔لیکن قوم نے تو بہ کر لی اور عذاب ٹل گیا۔چنانچہ لکھا ہے: 66 فتضرعوا الى الله و رحمهم و كشف عنهم (تفسیر کبیر از حضرت امام رازی - جلد 5 صفحہ 42) ترجمہ :۔وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑائے تو اس نے ان پر رحم کیا اور ان سے عذاب دور کر دیا۔ایسا ہی مضمون تفسیر فتح البیان۔سورہ الصافات۔زیرآیت ”فســــاهـــم فـــكـــان