شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 184 of 670

شیطان کے چیلے — Page 184

183 کرتا ہے۔اور جس سے اس کے عمل پر عذاب کی وعید کرے اسے اختیار ہے( چاہے تو اسے پورا کرے اور چاہے تو اسے معاف کر دے) اور آئمہ صادقین کی دعاؤں میں سے ایک دعا یوں ہے کہ اے وہ اللہ! کہ جب وعدہ کرتا ہے تو پورا کرتا ہے اور جب وعید کرے تو معاف کر دیتا ہے۔“ عذاب ادنی رجوع سے ٹل سکتا ہے قرآن کریم خدا تعالیٰ کے اس قانون کو کھول کر بیان کرتا ہے کہ ادنی رجوع سے بھی وہ عذاب ٹال دیتا ہے۔چنانچہ جب قوم فرعون پر موعود عذاب آتا تھا تو وہ کہتے تھے: يَأَيُّهَا السَّاحِرُادْعُ لَنَارَبَّكَ بِمَاعَهِدَ عِنْدَكَ إِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِذَا هُمْ يَنْكُتُونَ ( الزرف : 51،50) ‘ كَشَفْنَاعَنْهُمُ ترجمہ :۔اے جادو گر ! ہمارے لئے اپنے رب سے وہ مانگ جس کا اس نے تجھ سے عہد کر رکھا ہے۔یقیناً ہم ہدایت پانے والے ہو جائیں گے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ عذاب ادنی رجوع سے بھی ٹل جاتا ہے۔قوم فرعون نہ خدا تعالیٰ پر ایمان لاتی ہے۔نہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نبی نہیں مانتی ہے اور نہ ہی آپ کی اتباع میں آتی ہے بلکہ آپ کو جادوگر کہتی ہے مگر صرف دعا کی درخواست کرنے کی وجہ سے خدا تعالیٰ ان سے عذاب دور کر دیتا ہے حالانکہ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ یہ لوگ عہد شکنی کریں گے۔پھر قرآن کریم میں یہ بھی ہے کہ ”مَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ (الانفال: 34) ترجمہ :۔اللہ ایسا نہیں کہ انہیں عذاب دے جبکہ وہ بخشش طلب کرتے ہوں۔پس اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ بخشش طلب کرنے والوں سے عذاب دور کر دیتا ہے بلکہ ادنیٰ رجوع سے بھی ان سے عذاب ٹال دیتا ہے۔دوسرا اصول پیشگوئی میں اجتہادی غلطی بعض اوقات ملہم اپنے الہام کا اپنے اجتہاد سے ایک مفہوم قائم کرتا ہے لیکن بعد میں اس کا یہ اجتہاد