شیطان کے چیلے — Page 183
182 یہ ستم ہے کہ ان جميع الوعيدات مشروطة بعدم العفو فلا يلزم من تركها دخول الكذب في كلام الله تعالى 66 ( تفسیر کبیر۔جلد 2 صفحہ 904۔مصری) ترجمہ:۔وعیدی پیشگوئیوں میں یہ شرط ہوتی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ نے معاف نہ کر دیا ہوتو وہ لفظاً لفظاً پوری ہوتی ہیں۔لہذا اگر وعیدی پیشگوئی ( خدا تعالیٰ کے عفو کی وجہ سے) پوری نہ ہو تو اس سے خدا تعالیٰ کے کلام کا جھوٹا ہونا ثابت نہیں ہوتا۔(صفحہ 82) اہلِ سنت کے عقائد کی معروف کتاب ”مسلم الثبوت“ میں لکھا ہے " ان الايعاد في كلامه تعالى مقيد بعدم العفو ترجمہ :۔خدا تعالیٰ کی طرف سے ہر وعید عدم عضو کی شرط سے مقید ہوتی ہے۔پھر تفسیر بیضاوی میں لکھا ہے ان وعيد الفساق مشروط بعدم العفو ( تفسیر البیضاوی تفسیر سورۃ آل عمران۔زیر آیت ان اللہ لا یخلف المیعاد ) ترجمہ:۔فاسقوں کے متعلق عذاب کی پیشگوئی کا پورا ہونا اس شرط سے مشروط ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ معاف نہ کرے۔وعیدی پیشگوئیوں کے متعلق یہ اصول بنیادی طور پر حدیث نبوی سے ماخوذ ہے۔چنانچہ لکھا ہے: ان الله تعالى يجوز ان يخلف الوعيد و امتنع ان يخلف الوعد و بهذا وردت السنّة فـفــی حدیث انس رضی الله عنه ان النبي الله قال من وعد الله على عمله ثواباً فهو منجز له ومن اوعد على عمله عقاباً فهو بالخيار و من ادعية الائمة الصادقين يا من اذا وعد وفا و اذا اوعد عفا۔“ ( تفسیر روح المعانی۔جلد دوم صفحہ 55 مصری) ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے لئے جائز ہے کہ وہ وعید ( یعنی عذاب کی پیشگوئی) میں تخلف کرے اگر چہ وعدہ کے خلاف کرنا ممتنع ہے اور اسی طرح سنت میں بھی وارد ہوا ہے۔چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔اگر خدا تعالیٰ انسان کے عمل پر کسی ثواب ( انعام ) کا وعدہ کرے تو اسے پورا