شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 156 of 670

شیطان کے چیلے — Page 156

155 پہلی آیت : و ما ارسلنا من رسول ولا نبى الا اذا تمنى القى الشيطان في امنيته۔(انج:53) (ازالہ اوہام ص 629 ، دافع الوساوس ، مقدمہ حقیقت اسلام ص 33 روحانی خزائن جلد 3 ص439) مرزا غلام احمد صاحب نے قرآن شریف کی آیت سے من قبلک خارج کر دیا ہے کیونکہ اگر من قبلک یہاں رہتا تو مرزا صاحب کی نبوت کا ٹھکانا نہ بنتا“ قارئین کرام! حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس آیت سے اپنی نبوت کا استدلال نہیں کیا اس لئے راشد علی کا یہ کہنا کہ اگر من قبلک یہاں رہتا تو مرزا صاحب کی نبوت کا ٹھکانا نہ بنتا ، محض راشد علی کی زبان درازی ہے۔اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔باقی جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب نے قرآن شریف کی آیت سے من قبلک خارج کر دیا ہے تو اس بارہ میں حقیقت حال یہ ہے کہ واقعہ یہاں یہ آیت درج کرتے ہوئے من قبلک کے الفاظ سہو کتابت کی وجہ سے رہ گئے ہیں جبکہ یہی آیت اسی کتاب میں دوسری جگہ من قبلک کے الفاظ کے ساتھ لکھی گئی ہے۔پھر ایک اور کتاب براہین احمدیہ حصہ چہارم کے صفحہ 549 طبع اول کے حاشیہ در حاشیہ نمبر 4 میں بھی یہ آیت اپنے پورے الفاظ کے ساتھ تحریر شدہ ہے۔اس لئے اسے تحریف قرار دینا کھلا کھلا جھوٹ ہے۔ہے۔نیز بعد کے ایڈیشن میں مذکورہ بالاصفحہ 439 (روحانی خزائن جلد 3) پر کتابت کی اس غلطی کی تصحیح کر لی گئی دوسری آیت ان يجاهدوا في سبيل الله باموالهم وانفسهم (التوبة: 20) جنگ مقدس صفحہ 194۔5 جون 1893ء) مرزا صاحب نے ان یجاهدوا باموالهم وانفسهم اپنی طرف سے داخل کیا ہے اور وجاهدوا باموالكم وانفسکم کو خارج کر کے فی سبیل اللہ کو آخر سے اٹھا کر درمیان میں رکھ دیا ہے۔“ راشد علی کا یہ فقرہ ان کی بد دیانتی اور بدنیتی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔قارئین کرام ! حضرت مرزا صاحب نے سورہ توبہ کی آیت 20 کا حوالہ دیا ہے۔نہ کہ آیت 41 کا۔آیت 20 میں نہ تو باموالكم وانفسکم ہے اور نہ ہی فی سبیل اللہ آخر میں ہے بلکہ وہاں الفاظ ” فی سبيل الله باموالهم وانفسهم “ ہی ہیں۔یعنی فی سبیل اللہ پہلے ہے اور باموالکم