شیطان کے چیلے — Page 135
134 کے مقابل پر دوسری قوم کی طرف سے کچھ سخت الفاظ استعمال نہ ہوں تو ممکن ہے اس قوم کے جاہلوں کا غیظ وغضب کوئی اور راہ اختیار کر لے۔مظلوموں کے بخارات نکلنے کے لئے یہ ایک حکمت عملی ہے کہ وہ بھی مباحثات میں سخت حملوں کا سخت جواب دیں۔“ (کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 12،11) بہر حال امر واقع یہ ہے کہ ان مخالفین کی طرف سے ایذا رساں سخت الفاظ اور دشنام دہی کی مسلسل اور موسلا دھار بارش جب ظلم کی حدود کے دوسرے کنارے بھی پاٹ گئی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کے حسب ذیل حکم کے تحت ان کو جواب دیا: لَا يُحِبُّ اللَّهُ الجَهرَ بِالسُّوءِ مِنَ القَولِ إِلَّا مَن ظُلِمَ “ (النساء: ۹۴۱) ترجمہ: اللہ تعالیٰ بری بات کے اظہار کو پسند نہیں کرتا سوائے اس کے کہ جس پر ظلم کیا گیا ہو۔پس اس صورتحال میں اگر راشد علی کو کوئی اعتراض ہے تو اس کا ہدف اس کے اپنے پیش رو مسلمان مولوی ،متنصر مولوی، پادری اور آریہ لیڈر ہیں۔بہر حال یہ اعتراض حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نہیں اٹھ سکتا۔(i) جوابی گالی را شد علی ایک اور تحریفکر تے ہوئے لکھتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے ” میں نے جوابی طور پر بھی کسی کو گالی نہیں دی“ یہ ایک معنوی تحریف ہے جو راشد علی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارت سے کی ہے۔آپ کی اصل عبارت یہ ہے: اعلم ان موضوع امرنا هذا هو الدعوى الذى عرضت على الناس وقلت اني انا المسيح الموعود والامام المنتظر المعهود - حكمنى الله لرفع اختلاف الامة ـ وعلمني من لدنه لادعو الناس على البصيرة - فما كان جوابهم الا السب والشتم والفحشاء ، والتكفير والتكذيب والايذاء ـ وقد سبّونى بكل سبّ فمارددت عليهم جوابهم وما عبات بمقالهم وخـطـابهـم ـ ولم يزل امر شتمهم يزداد ويشتعل الفساد وراوا ايات فكذبوها۔۔۔۔۔۔ودعوا