شیطان کے چیلے — Page 134
133 کی۔راشد علی جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دیگر کتب کو چھان چھان کر دیکھتا ہے ، تو اس کی بدکلامی وشتم کی کسی قدر تفصیل ، کتاب ” کتاب البریہ اور کشف الغطاء میں دیکھ سکتا تھا۔لیکن شاید وہ ان کتابوں کے ان ابواب کو اس لئے نہیں دیکھتا کہ ان میں اسے اپنا چہرہ نظر آتا ہے۔بہر حال مذکورہ بالا چند گنتی کے مولویوں میں محمد بخش جعفر زنگی ، شیخ محمد حسین بٹالوی ، سعد اللہ لدھیانوی ، عبدالحق امرتسری خاص طور پر گالیاں دینے میں پیش پیش تھے۔اسی طرح چند پادری ، چند متنصر مولوی اور چند آریہ تھے جو دشنام دہی میں فلم کی حدیں پاٹ چکے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سخت الفاظ اس قسم کے بدزبان لوگوں کی نسبت بطور جواب تھے۔یعنی جو گند انہوں نے آپ کی طرف پھینکا آپ نے وہ انہی کی طرف لوٹا دیا۔ابتدائی طور پر سخت الفاظ کا استعمال مخالفوں کی طرف سے ہوا جس کا جواب حکمت کے تقاضوں کے تحت ضروری تھا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس صورت حال کا ذکر کر کے فرمایا: مخالفوں کے مقابل پر تحریری مباحثات میں کسی قدر میرے الفاظ میں سختی استعمال میں آئی تھی لیکن وہ ابتدائی طور پر سختی نہیں ہے۔بلکہ وہ تمام تحریریں نہایت سخت حملوں کے جواب میں لکھی گئی ہیں۔مخالفوں کے الفاظ ایسے سخت اور دشنام دہی کے رنگ میں تھے۔جن کے مقابل پر کسی قد رسختی مصلحت تھی۔اس کا ثبوت اس مقابلہ سے ہوتا ہے جو میں نے اپنی کتابوں اور مخالفوں کی کتابوں کے سخت الفاظ اکٹھے کر کے کتاب مسل مقدمہ مطبوعہ کے ساتھ شامل کئے ہیں۔جن کا نام میں نے " کتاب البریہ“ رکھا ہے اور بایں ہمہ میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ میرے سخت الفاظ جوابی طور پر ہیں۔ابتداء تختی کی مخالفوں کی طرف سے ہے اور میں مخالفوں کے سخت الفاظ پر بھی صبر کر سکتا تھا۔لیکن دو مصلحت کے سبب سے میں نے جواب دینا مناسب سمجھا تھا۔اول یہ کہ تا کہ مخالف لوگ اپنے سخت الفاظ کا تختی میں جواب پا کر اپنی روش بدلا لیں۔اور آئندہ تہذیب سے گفتگو کریں۔دوم یہ کہ مخالفوں کی نہایت ہتک آمیز اور غصہ دلانے والی تحریروں سے عام مسلمان جوش میں نہ آئیں اور سخت الفاظ کا جواب بھی کسی قدر سخت پا کر اپنی پر جوش طبیعتوں کو اس طرح سمجھا لیں کہ اس طرف سے سخت الفاظ استعمال ہوئے تو ہماری طرف سے بھی کسی قد رسختی کے ساتھ ان کو جواب مل گیا۔اور اس طرح وہ وحشیانہ انتقاموں سے دست کش رہیں۔۔یہ بات بالکل سچ ہے کہ اگر سخت الفاظ