شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 136 of 670

شیطان کے چیلے — Page 136

135 النصارى لتائيدهم و غيرهم من اعداء الدين وافتى علماؤهم لتكفيرنا۔۔۔۔۔۔۔وفسقونى وجهلوني بالكذب والافتراء وبالغوا فى السبّ الى الانتهاء - وانى لاجبتهم بقول حق لولا صيانة النفس من الفحشاء (مواہب الرحمان۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 236 تا 238) ترجمہ :۔ہمارا موضوع یہاں وہ دعوی ہے جو میں نے لوگوں کے سامنے پیش کیا۔میں نے بتایا کہ میں ہی مسیح موعود اور معہود امام منتظر ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے امت کے اختلافات دور کرنے کے لئے حکم بنایا ہے اور مجھے اپنی جناب سے علم عطا کیا ہے تا کہ لوگوں کو بصیرت کی طرف بلاؤں۔تو ان کا جواب سوائے گالی گلوچ ، مخ کلامی تکفیر، تکذیب اور ایذارسانی کے اور کچھ نہ تھا۔انہوں نے مجھے ہر طرح کی گالی دی لیکن میں نے انہیں کوئی جواب نہ دیا اور ان کی باتوں کی کوئی پرواہ نہ کی۔پھر ان کا سب وشتم بڑھتا ہی گیا اور فساد بھڑکتا ہی گیا۔انہوں نے نشانات دیکھے مگر انہیں جھٹلایا۔انہوں نے عیسائیوں کو بھی اپنی مدد کے لئے بلایا اور دین کے دوسرے دشمنوں کو بھی۔ان کے علماء نے ہماری تکفیر کے فتوے دیئے اور انہوں نے مجھے محض از راه کذب وافتراء فاسق اور جاہل قرار دیا۔اور اگر میرا انفس فحش کلامی سے محفوظ نہ ہوتا تو میں بھی انہیں جو اُن کا حق تھا، جواب دیتا۔اس عربی عبارت کا ترجمہ ہرگز وہ نہیں ہے جو راشد علی نے کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو فرمایا ہے۔وقد سبونى بكلّ سبّ فمارددت عليهم جوابھم۔کہ انہوں نے مجھے ہر طرح کی گالی دی مگر میں نے ان کی گالیوں کا جواب نہیں دیا۔یہ مکمل عبارت خود ظاہر کر رہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابتدائی زمانہ یعنی اپنے دعوی مسیحیت کے اعلان کے زمانہ کی بات کر رہے ہیں۔اس زمانہ میں جب تکفیر اور سب وشتم کا بازار آپ کے خلاف گرم ہوا تو آپ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیانتی کہ یظلم جب اپنی تمام حدوں کو پار کر چکا تو جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے، تب آپ نے قرآنی حکم کی تعمیل میں ظلم کرنے والوں کو ان کی قلم اور زبان کی مرارت اور تلخی کا مزہ چکھانے کے لئے سختی کے ساتھ ٹھوس علمی دلائل کی ساتھ جواب دیئے۔پس راشد علی نے انتہائی عیاری سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر کو ایسے معنے دینے کی کوشش کی ہے جو نہ اس تحریر کا مطلوب ہیں نہ منطوق۔” گالیوں کا جواب نہ دینا“ اور ” جوابی طور پر گالی نہ دینا“ میں