شیطان کے چیلے — Page 111
110 آپ نے اپنے اشتہار زیر عنوان ” براہین احمدیہ اور اس کے خریدار میں بڑی وضاح کے ساتھ لکھا :۔” ایسے لوگ جو آئندہ کسی وقت جلد یا دیر سے اپنے روپیہ کو یاد کر کے اس عاجز کی نسبت کچھ شکوہ ا کرنے کو تیار ہیں یا ان کے دل میں بھی بدظنی پیدا ہو سکتی ہے وہ براہ مہربانی اپنے ارادہ سے مجھ کو بذریعہ خط مطلع فرما دیں اور میں ان کا روپیہ واپس کرنے کے لئے یہ انتظام کروں گا کہ ایسے شہر میں یا اس کے قریب اپنے دوستوں میں سے کسی کو مقرر کر دوں گا کہ تا چاروں حصے کتاب کے لے کر رو پید ان کے حوالے کرے۔اور میں ایسے صاحبوں کی بدزبانی اور بدگوئی اور دشنام دہی کو بھی محض اللہ بخشتا ہوں۔کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی میرے لئے قیامت میں پکڑا جائے اور اگر ایسی صورت ہو کہ خریدار کتاب فوت ہو گیا ہو اور وارثوں کو کتاب بھی نہ ملی ہو تو چاہئے کہ وارث چار معتبر مسلمانوں کی تصدیق خط میں لکھوا کر کہ اصلی وارث وہی ہے وہ خط میری طرف بھیج دے تو بعد اطمینان وہ روپیہ بھی بھیج دیا جائے گا۔‘“ (تبلیغ رسالت جلد 3 صفحہ 35) اس کے بعد کیا ہوا؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: ا۔لی ۲۔" ” پس جن لوگوں نے قیمتیں دی تھیں اکثر نے گالیاں بھی دیں اور اپنی قیمت بھی واپس (دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 7 طبع اول) ” ہم نے۔دو مرتبہ اشتہار دے دیا کہ جو شخص برا مین احمدیہ کی قیمت واپس لینا چاہے وہ ہماری کتابیں ہمارے حوالے کرے اور اپنی قیمت لے لے۔چنانچہ وہ تمام لوگ جو اس قسم کی جہالت اپنے اندر رکھتے تھے انہوں نے کتابیں بھیج دیں اور قیمت واپس لے لی۔اور بعض نے تو کتابوں کو بہت خراب کر کے بھیجا۔مگر پھر بھی ہم نے قیمت دے دی خدا کا شکر ہے کہ ایسے دنی طبع لوگوں سے خدا تعالیٰ نے ہم کو فراغت بخشی (تیام اصلح۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 196) یہ حتمی بات ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ایک بھی ایسا شخص باقی نہ رہا تھا جس نے قیمت کی واپسی کا مطالبہ کیا ہو اور اسے واپس ادا نہ کی گئی ہو۔اور جو دنی الطبع لوگ تھے وہ بھی سب کے سب فارغ کر دیئے گئے تھے۔ورنہ ان اشتہارات اور تحریروں کی اشاعت پر وہ ضرور بول اٹھتے کہ ان کی 66