شیطان کے چیلے — Page 112
111 پیشگی رقم واپس نہیں کی گئی۔را شد علی کوئی ایک ثبوت بھی پیش نہیں کر سکتا کہ کسی نے رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا ہو اور اسے واپس نہ دی گئی ہو۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں تو دنی الطبع لوگ ایسے تھے کہ انہوں نے گالیاں بھی دیں اور قیمتیں بھی واپس لیں لیکن آج کل ایسے ہیں کہ جنہوں نے رقم بھی کوئی نہیں دی اور گالیاں بھی دیتے ہیں اور جھوٹے الزام بھی لگاتے ہیں !!! بالآخر یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ دنیا کے اکثر لوگ جو تاریکی میں پیدا ہوتے اور اسی میں مرجاتے ہیں خدا کے نبیوں پر مالی معاملات میں بھی زبان طعن دراز کیا کرتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ کو بھی غنیمتوں کی تقسیم میں مطعون کیا گیا۔ایسا طعن کرنے والوں کے بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمِنهُم مَّن يُلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَتِ (التوبه: 58) کہ ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ جو تجھ پر صدقات کے سلسلہ میں الزام لگاتے ہیں۔یہ تو ہے سب شکل ان کی ہم تو ہیں آئینہ دار iii۔پچاس اور پانچ جہائیک پانچ اور پچاس پر راشد علی کے استہزاء کا تعلق ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پانی کو جو پچاس کے برابر قرار دیا ہے۔یہ آپ نے حساب اپنی طرف سے نہیں لگایا۔بلکہ خدا تعالیٰ کا بتایا ہوا حساب ہے۔چنانچہ بخاری میں ہے: فقال هي خمس وهي خمسون ( بخاری۔کتاب الصلوۃ۔باب کیف فرضت الصلوۃ فی المعراج) کہ معراج کی رات جب آنحضرت ﷺ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشورہ سے پچاس نمازوں میں تخفیف کرانے کے لئے آخری مرتبہ اللہ تعالیٰ کے پاس حاضر ہوئے تو خدا تعالیٰ نے فرمایا لیجیئے یہ پانچ ! یہ پچاس ہیں۔اور مشکوۃ کتاب الصلوۃ میں حدیث معراج کے یہ الفاظ ہیں : وو قال انهن خمس صلوات كل يوم و ليلة لكلّ صلواة عشر فذلك خمسون صلوة“ ( مشکوۃ۔باب فی المعراج)