شیطان کے چیلے — Page 110
109 حضرت جبریل علیہ السلام آنحضرت ﷺ سے وعدہ کرتے ہیں کہ وہ رات کو ضرور آئیں گے لیکن رات گزر جاتی ہے اور وہ نہیں آتے۔پھر جب دوسرے وقت آئے تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا :۔صورة “ " لقد كنت وعد تنى ان تلقاني البارحة قال اجل ولكنا لا ندخل بيتا فيه كلب ولا ( مشکوۃ۔باب التصاویر مطبوعہ دینی کتب خانہ لاہور ) کہ آپ نے گذشتہ رات آنے کا وعدہ کیا تھا مگر نہ آئے؟ اس نے کہا وعدہ تو ٹھیک کیا تھا لیکن ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوا کرتے جہاں کتا یا صورت ( بت وغیرہ ) ہو۔“ پس کیا راشد علی، اس کا پیر اور ان کے ہمنوا اب حضرت جبریل علیہ السلام پر بھی وعدہ خلافی کا الزام لگائیں گے۔( نعوذ باللہ ) حقیقت یہ ہے کہ مشیت الہی کے تحت نئی صورت حال پیدا ہونے سے اور خصوصاً اعلی صورت کی طرف حالات بدل جانے سے اگر پروگرام بدل جائیں اور اعلیٰ مقاصد پیش نظر ہوں تو ان پر وعدہ خلافی کا الزام لگانا سخت نا انصافی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات جب خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے اعلیٰ صورت کی طرف بدل دیئے تو آپ کو وہ وعدہ بھی اعلیٰ رنگ میں اور بڑھا چڑھا کر پورا کرنے کی توفیق ii۔امانت میں خیانت راشد علی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اپنے صریح بہتان ”امانت میں خیانت“ کی دلیل کے طور پر کتاب براہین احمدیہ کے لئے لوگوں سے رقوم کی وصولی کو پیش کیا ہے۔را شد علی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بغض و عناد میں ابولہب کی طرح ادھار کھاتے بیٹھا ہے۔انبیاء علیہم السلام کے دشمنوں کی طرح وہ ہر حال میں نیش زنی کرتا ہے۔حالانکہ براہین احمدیہ کی رقوم کے سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کوئی بہتان لگایا ہی نہیں جاسکتا۔آپ نے حالات بدل جانے کی وجہ سے رقوم کی واپسی کے لئے وہی انتہائی اقدام کئے جو ایک دیانتدار اور امین شخص کر سکتا ہے۔آپ نے خاص طور پر دو مرتبہ سے زائد اشتہار دیا کہ جو جولوگ اپنی قیمتیں واپس لینا چاہتے ہیں وہ وصول شدہ کتاب واپس بھیج کر قیمت واپس منگوالیں۔