شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 77 of 670

شیطان کے چیلے — Page 77

77 حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایک سکھ زمیندار کا بیان درج کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔ایک دفعہ ایک بڑے افسر یا رئیس نے ہمارے دادا صاحب ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضرت والد صاحب) سے پوچھا کہ سنتا ہوں کہ آپ کا ایک چھوٹا لڑکا بھی ہے مگر ہم نے اسے کبھی دیکھا نہیں دادا صاحب نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ہاں میرا ایک چھوٹا لڑکا تو ہے مگروہ کم ہی نظر آتا ہے۔اگر اسے دیکھنا ہوتو مسجد کے کسی گوشہ میں جا کر دیکھ لیں۔وہ تو مسیت ہے اور اکثر مسجد میں ہی رہتا ہے اور دنیا کے کاموں میں اسے کوئی دلچسپی نہیں۔“ (سیرت طیبہ۔از حضرت مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہ - صفحہ 11 - مطبوعہ نظارت اشاعت ربوہ 1960ء) حضرت مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں : حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جوانی کا عالم تھا جبکہ انسان کے دل میں دنیوی ترقی اور مادی آرام و آسائش کی خواہش اپنے پورے کمال پر ہوتی ہے اور حضور کے بڑے بھائی صاحب ایک معز ز عہدہ پر فائز ہو چکے تھے اور یہ بات بھی چھوٹے بھائی کے دل میں ایک گونہ رشک یا کم از کم نقل کا رجحان پیدا کر دیتی ہے۔ایسے وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد صاحب نے علاقہ کے ایک سکھ زمیندار کے ذریعہ جو ہمارے دادا صاحب سے ملنے آیا تھا حضرت مسیح موعود کو کہلا بھیجا کہ آجکل ایک بڑا افسر برسر اقتدار ہے جس کے ساتھ میرے خاص تعلقات ہیں اس لئے اگر تمہیں نوکری کی خواہش ہو تو میں اس افسر کو کہہ کر تمہیں اچھی ملازمت دلا سکتا ہوں۔یہ سکھ زمیندار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور ہمارے دادا صاحب کا پیغام پہنچا کر تحریک کی کہ یہ ایک بہت عمدہ موقع ہے اسے ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہئے۔حضرت مسیح موعود نے اس کے جواب میں بلا توقف فرمایا: حضرت والد صاحب سے عرض کر دو کہ میں ان کی محبت اور شفقت کا ممنون ہوں مگر ” میری نوکری کی فکر نہ کریں میں نے جہاں نوکر ہونا تھا ہو چکا ہوں۔“ یہ سکھ زمیندار حضرت دادا صاحب کی خدمت میں حیران و پریشان ہو کر واپس آیا اور عرض کیا کہ آپ کے بچے نے یہ جواب دیا ہے کہ ” میں نے جہاں نو کر ہونا تھا ہو چکا ہوں دادا صاحب کچھ دیر خاموش رہ کر فرمانے لگے کہ اچھا غلام احمد نے یہ کہا ہے کہ میں نوکر ہو چکا ہوں؟ تو پھر خیر ہے۔اللہ اسے