شیطان کے چیلے — Page 78
78 ضائع نہیں کرے گا۔اور اس کے بعد کبھی کبھی حسرت کے ساتھ فرمایا کرتے تھے کہ سچا رستہ تو یہی ہے جو غلام احمد نے اختیار کیا ہے ہم تو دنیا داری میں الجھ کر اپنی عمریں ضائع کر رہے ہیں۔“ (سیرت طیبہ - صفحہ 8،7 از حضرت مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہ ) ایک معتمر ہندو کی روایت ہے کہ آپ کے والد محترم آپ کے تقوی اور تعلق باللہ کو دیکھ کر فرمایا کرتے تھے کہ۔” جو حال پاکیزہ غلام احمد کا ہے وہ ہمارا کہاں۔پیشخص زمینی نہیں، آسمانی ہے۔یہ آدمی نہیں فرشتہ ہے۔“ ( تذکرۃ المہدی۔جلد 2 صفحہ 302۔از پیر سراج الحق نعمانی۔مطبوعہ قادیان 1915ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کا یہ صرف ایک ورق ہے جو آپ کی پاکیزگی طبع اور ذوق عبادت کا آئینہ دار ہے۔نیز دنیا داری زن ، زر، زمین اور نام و نمود قسم کی اشیاء سے بیزاری اور کنارہ کشی کی تصویر پیش کرتا ہے۔لیکن جو الزام راشد علی نے مذکورہ بالا سطور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر لگایا ہے۔دراصل اس کی حقیقی اور اصل تصویر ہے اس کا پیر سید عبدالحفیظ۔چنانچہ ملاحظہ فرمائیں۔اس کے متعلقسندھی اخبار ” پاک“ کی 3 دسمبر 1999ء کی خبر۔گجو کے شہر میں ایک غیر سندھی مرشد عوام کے لئے مصیبت بن گیا۔سالوں سے آباد مقامی باشندوں کو جھوٹے مقدموں میں پھنسا کر تنگ کرنے لگا۔خالی ہاتھ آنے والا پیر زمیندار بن گیا۔عبد الحفیظ نامی یہ مذہبی ملاں جو اس وقت 87 سال کا بوڑھا ہے 1962 ء میں خالی ہاتھ گجو شہر میں آیا تھا جسے یہاں کے لوگوں نے لاچار سمجھ کر رہنے کی جگہ دی اور کھانا دیتے مقامی باشندے جن میں علی اکبر میر گل محمد میر نے صحافیوں کے سامنے بیان دیا ہے کہ۔۔عبدالحفیظ نے آنے کے بعد ہمارے گاؤں کی زمین حاصل کرنے کے لئے کیس پر کیس بنا کر ہمارے لئے جنجال بنا دیا ہے۔قبضہ کرنے کی خاطر طرح طرح سے تنگ کر رہا ہے۔“ ( ترجمه از سندھی عبارت) یہ ہے کہانی جس پر راشد علی کا پیش کردہ اعتراض بڑے احسن اور خوبصورت عنوان کے طور پر