شیطان کے چیلے — Page 543
539 وہ لوگ ایسے پکے مسلمان تھے کہ جن کے اسلام پر سر کاری مہر تھی۔ان مقدس لوگوں کے اعمال کی تفصیل اس قرطاس ابیض (White Paper) کے حصہ سوم میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے، جو ضیاء حکومت نے شائع کیا تھا۔اس میں ایک ممبر کے بارہ میں لکھا ہے۔کہ وہ وو شراب اور شباب کے رسیا ہیں۔۔۔۔وفد کے ساتھ واپس آتے ہوئے ائر ہوسٹس سے وہسکی کی دو بوتلیں طلب کیں اور جب ائر ہوسٹس نے بوتلیں فراہم کر دیں تو اس نے ائر ہوسٹس پر دست درازی کی کوشش کی۔۔۔۔66 ایک اور کے بارہ میں لکھا ان کا خاص معتمد ایک خطر ناک سمگلر ہے۔“ اور ایک اور کے بارہ میں لکھا (صفحہ 182) (صفحہ 183 ) آزادانہ جنسی تعلقات ان کے کردار کا آئینہ دار ہیں اور لکھا کہ یہ لوگ قاتل بھی ہیں۔“ پھر ایک اور کے بارہ میں لکھا کہ وو بدکاری اور ناجائز تعلقات کے الزامات میں ملوث ہے۔“ ایک اور کے بارہ میں لکھا کہ وو معتمدوں کے ذریعہ پرمٹ حاصل کرنے والے، ایجنسیاں دلوانے والے، سمگلنگ کرنے اور کروانے والے کسٹم حکام کے ساتھ ملوث ،مبینہ طور پر عورتوں کے رسیا ہیں۔“ (صفحه 85) یہ تو صرف نمونہ کے طور پر چند سطریں ہیں جو پیش کی گئی ہیں۔اس دستاویز میں بہت مواد موجود ہے۔اب آخر میں ایک اور خبر بھی سن لیں۔روز نامہ جنگ لندن کی 8 جون 1987ء، بروز سوموار کی اشاعت میں یہ خبر آئی کہ دو ریاض اور جدہ میں بعد نماز جمعہ بالترتیب ناصر بن سکی اور محمود بن محمد السراج کے سر قلم کر دئے گئے۔وزارتِ داخلہ کے سرکاری بیان کے مطابق ناصر بن سکی پر شراب پینے اور نشے میں بدمست ہو جانے کے بعد اپنی والدہ سے بد فعلی کرنے کا جرم ثابت ہو جانے کے بعد ریاض کی اعلیٰ شرعی عدالت نے سزائے موت تجویز کی تھی جس کی شاہی توثیق کے بعد جمعہ کو سزا پر عملدرآمد کیا گیا، جبہ فلسطینی شہریت کے حامل محمود