شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 542 of 670

شیطان کے چیلے — Page 542

538 سال سے اس شعبہ سے منسلک تھا۔اسی طرح رائس ایکسپورٹ کارپوریشن کے پروکیورمنٹ اور فنانس کے شعبوں کے سر براہان ایس کے ملک اور عبد الغنی بھی قادیانی تھے۔ان بڑی مچھلیوں پر تو کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکا مگر چند چھوٹی مچھلیوں کو ضرور سزا بھگتنی پڑی۔د گزشتہ دنوں ربوہ کے چار قادیانیوں کو ابوظہبی میں ہیروئن اسمگل کر کے فروخت کرنے کے جرم میں تین تین (روز نامہ جنگ کوئٹہ 27 مئی 1958ء) سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی۔۔۔ہم اس خبر کی تصدیق کی بحث میں نہیں پڑتے کہ ایسا واقعہ ہوا بھی تھا یا نہیں؟ وہ مجرم تھے بھی یا نہیں؟ وہ ربوہ کے رہنے والے بھی تھے یا نہیں ؟ وہ احمدی بھی تھے یا نہیں؟ وغیرہ وغیرہ اصولی بات یہ ہے کہ افراد کے اعمال، انبیاء علیہم السلام کی صداقت یا مذاہب کی سچائی کی کسوٹی نہیں ہوتے۔اگر افراد کے جرائم اور ان کے گناہوں کو معیار بنا کر انبیاء اور مذاہب کی حقانیت کو پرکھا جائے تو دنیا میں نہ کسی نبی کو اور نہ ہی کسی مذہب کو سچا ثابت کیا جاسکتا ہے۔مثلاً راشد علی اور اس کا پیر سید عبد الحفیظ باوجود اس کے کہ مذہبی انسان کہلاتے ہیں مگر جس طرح جانتے بوجھتے ہوئے جھوٹ پر جھوٹ اور افتراء پر افتراء کئے چلے جاتے ہیں ، اور ان کے ایسے ہی کردار کے دیگر پہلوؤں (جن کا گزشتہ اوراق میں حسب موقع کچھ نمونہ قارئین کے سامنے پیش کیا گیا ہے) کی وجہ سے کوئی اسلام پر انگلی اٹھائے یا اس کی تکذیب کرے تو وہ احمق ہی کہلائے گا۔برے اعمال کرنے والا ہی برا ہوتا ہے، نہ کہ مذہب۔راشد علی نے ہیروئن کی بات کی ہے۔اس کی اسمگلنگ ، جو مسلمانوں کے ذریعہ ہوتی ہے، ایسی ہی خبروں سے روز مرہ کے اخبارات بھرے ہوتے ہیں۔ان کی تفصیل بہت طویل ہے۔راشد علی کو صرف اس رپورٹ سے ہی شرم آ جانی چاہئے کہ انٹرنیشنل نارکوٹکس کنٹرول بورڈ کی 1997ء کی رپورٹ کے مطابق صرف افغانستان سے 2800 ٹن افیون اور پوست اسمگل کی گئی۔کیا راشد علی اس خبر پر ویسا ہی عنوان لگا سکتا ہے جو اس نے ایک خبر کی بناء پر جماعت احمدیہ پر لگایا ہے۔راشد علی نے پاکستان کی قومی اسمبلی (1974 ء ) کا بڑے فخر سے ذکر کیا ہے کہ اس نے جماعتِ احمدیہ کو غیر مسلم قرار دے کر عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے۔یعنی اس کی منطق کے مطابق یہ کارنامہ سرانجام دینے والے امت کے عظیم مجاہد اور ہیرو تھے۔ظاہر ہے کہ مسلمانوں کے سب فرقے ان کے اسلام پر متفق تھے۔یہ