شیطان کے چیلے — Page 490
486 عل مدعیان کی ایک فہرست پیش کی ہے تا کہ وہ خدا تعالیٰ کے کلام اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کی صداقت کے اس اصول کو جو ہر بچے مدعی کے لئے بھی صداقت کا ایک معیار ہے ،جھوٹا ثابت کرسکیں۔( نعوذ باللہ من ڈ لک) وہ لکھتے ہیں۔ماضی کے چند مدعیان نبوت ، مهدویت مسیحیت آئیے اب دیکھتے ہیں کہ کیا ایسا اجتماع جیسا کہ مرزا صاحب کے دور میں ہوا کسی اور مدعی نبوت / مہدویت/ محدثیت کے دور میں بھی ہوا ہے؟ جب یہ ثابت ہو گیا اور جیسا کہ اسٹرانامی (astronomy) کی بے شمار کتب شاہد ہیں کہ رمضان میں خسوف وخسوف کا اجتماع 1ھ سے ہر 22 سال بعد پابندی سے ہوتا آیا ہے۔ان 1300 سالوں میں لاتعداد مدعیان نبوت و مہدویت و مسیحیت گذرے ہیں نمونے کے طور پر چند حوالے پیش خدمت ہیں۔مرزا صاحب کی ہی کی حیات مندرجہ ذیل مدعیان مسیحیت و مہدویت موجود تھے۔-1 -2 امریکہ میں الیگزینڈر ڈوئی۔سوڈان میں مہدی سوڈانی۔-3 وکسوف ہوا۔-4 _5 -6 اجتماع ہوا۔ایران میں مرزا علی باب نے 1260ھ میں مہدی کا دعویٰ کیا۔اس کے دور میں 1851ء میں اجتماع خسوف مرزا علی باب کے جانشین صبح ازل اور بہا اللہ (1250 تا 1270 ) دونوں مہدویت کے دعویدار ہوئے۔صالح بن طریف برغواطی نے 125ھ میں مہدی موعود اور نبوت کا دعویٰ کیا اور 47 سال تک دعوائے نبوت کے ساتھ اپنی قوم کا حاکم رہ کر 174ھ میں تخت و تاج اپنے بیٹے کو سونپ گیا۔اس کے دور میں بھی رمضان میں خسوف وکسوف کا الاستقصاء لا خباء دول المغرب الاقصی مطبوعہ جلد اول صفحہ 51 منقول: آئمہ تلبیس ج1 صفحہ 192) ابو منصور عیسی نے 341ھ میں دعویٰ مہدویت و نبوت کیا اور 369 ھ ( ان کے 28 سال ) تک اپنی قوم پر حکمرانی کرتا رہا۔اس کے زمانے میں بھی انہیں تاریخوں میں گہنوں کا اجتماع ہوا۔-7 _8 ابو غفر محمد بن معاذ 268 ھ میں دعویٰ کیا اور 297 ھ (29 سال) تک اپنی قوم پر حکمرانی کرتارہا۔صرف چند مثالوں پر اکتفا کیا گیا ہے وگر نہ فہرست بہت لمبی ہے۔“ (آئمہ تلبیس جلد 1 صفحہ 194) ( بے لگام کتاب )