شیطان کے چیلے — Page 453
449 کے مہینے میں موجود ہونا خارق عادت ہے اور صرف اجتماع خسوف کسوف خارق عادت نہیں۔“ (انوار الاسلام۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 48 ،49) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مذکورہ بالا عبارتیں پیش کر کے پیر ومرید کی اس جوڑی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی دلیل ہی کو لوگوں کے سامنے پیش کر کے اپنے جھوٹا ہونے کا ثبوت فراہم کیا ہے کیونکہ i اس نشان کے مصداق صرف اور صرف حضرت مسیح موعود اور و مہدی معہود ہیں جب سے دنیا بنی ہے اس وقت سے آج تک صرف اور صرف حضرت بانی جماعت احمدیہ مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام ہی وہ مسیح موعود و مہدی معہود ہیں جن کے لئے دار قطنیکی حدیث میں مذکور خسوف و کسوف کی پیشگوئی تھی اور انہیں کے لئے یہ نشان ظاہر ہوئے۔۲۔را شد علی اور اس کا پیر ایک بھی ایسا مدعی پیش نہیں کر سکے اور نہ کر سکتے ہیں جو موجود ہو یعنی اس نے دعوائے مہدویت کیا ہوا ہو اور اس کے دعوے کے بعد خدا تعالیٰ نے اس کے دعوے کی تائید کے لئے اس حدیث کے مطابق خسوف و کسوف کے نشان ظاہر کئے ہوں۔پھر ایسے مدعی نے ان نشانوں کو اپنے دعوے کی صداقت کے لئے پیش کیا ہو۔اور اس نشان سے فائدہ اٹھایا ہو۔جیسا کہ لمھدینا سے ظاہر ہے۔ii آج تک رمضان میں کسوف و خسوف کا ایسا اجتماع نہیں ہوا۔۔۔۔را شد علی اور اس کے پیر نے اسی ” بے لگام کتاب میں آگے جا کر ماضی کے چند مدعیان نبوت / مہدویت مسیحیت“ کے عنوان کے تحت حسب ذیل فہرست پیش کر کے اپنے جھوٹ پر مزید مہر تصدیق ثبت کی ہے۔وہ لکھتے ہیں: آئیے اب دیکھتے ہیں کہ کیا ایسا اجتماع جیسا کہ مرزا صاحب کے دور میں ہوا، کسی اور مدعی نبوت / مہدویت / محدثیت کے دور میں بھی ہوا ہے؟ جب یہ ثابت ہو گیا اور جیسا کہ اسٹرا نامی (Astronomy) کی بے شمار کتب شاہد ہیں کہ رمضان میں خسوف وکسوف کا اجتماع 1صہ ء سے ہر 22 سال بعد پابندی سے ہوتا آیا ہے۔ان 1300 سالوں میں لاتعداد مدعیان نبوت اور