شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 454 of 670

شیطان کے چیلے — Page 454

450 مہدویت و مسیحیت گذرے ہیں۔نمونے کے طور پر چند حوالے پیش خدمت ہیں۔مرزا صاحب کی ہی کی حیات میں مندرجہ ذیل مدعیان مسیحیت و مہدویت موجود تھے۔۔وکسوف ہوا۔۔امریکہ میں الیگزینڈر ڈوئی۔سوڈان میں مہدی سوڈانی۔ایران میں مرزا علی باب نے 1260ھ میں مہدی کا دعوی کیا۔اس کے دور میں 1851ء میں اجتماع خسوف مرزا علی باب کے جانشین صبح ازل اور بہاء اللہ ( 1250 - 1270ء ) دونوں مہدویت کے دعویدار ہوئے۔صالح بن طریف برغواطی نے 125ھ میں مہدی موعود اور نبوت کا دعویٰ کیا اور 47 سال تک دعوائے نبوت کے ساتھ اپنی قوم کا حاکم رہ کر 174ھ میں تخت و تاج اپنے بیٹے کو سونپ گیا۔اس کے دور میں بھی رمضان میں خسوف وکسوف کا الاستقصاء لا خباء دول المغرب الاقصیٰ مطبوعہ جلد اول صفحہ 15 منقول ائمہ تلبیس ج 1 صفحه 192) اجتماع ہوا۔ابو منصور عیسی نے 341 ھ میں دعویٰ مہدویت و نبوت کیا اور 369ھ (اگلے 28 سال) تک اپنی قوم پر حکمرانی کرتا رہا۔اس کے زمانے میں بھی انہی تاریخوں میں گہنوں کا اجتماع ہوا۔ابو غفير محمد بن معاذ 268 ھ میں دعویٰ کیا اور 297ھ ( 29 سال) تک اپنی قوم پر حکمرانی کرتارہا۔صرف چند مثالوں پر اکتفا کیا گیا ہے۔وگرنہ فہرست بہت لمبی ہے۔(آئمہ تلبیس جلد ا صفحه 194) مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح ان تمام مدعیان مہدویت و نبوت کے زمانے میں رمضان کے مہینے میں خسوف وکسوف کا اجتماع ہوتا رہا۔مرزا صاحب کے اپنے فتوی کے مطابق وہ جھوٹے ثابت ہو گئے کہ:۔یہ نشان کسی دوسرے مدعی کو نہیں دیا گیا خواہ صادق ہو یا کاذب۔۔۔اگر اس قسم کا خسوف و کسوف کسی اور مدعی کے زمانے میں پیش کر سکتے ہیں تو کریں اس سے بے شک میں جھوٹا ہو جاؤں گا۔“ (روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 232) اوّل تو راشد علی اور اس کا پیر اس حد تک کور باطن ہیں کہ ایک سادہ سی عبارت بھی ان کے فہم سے بالا ہے تو ان سے یہ توقع کس طرح کی جاسکتی ہے کہ وہ اس حدیث کے عرفان کو پہنچ سکیں گے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمان کو اگر جھوٹا ثابت کرنا چاہتے تھے تو کسی ایسے صادق یا کاذب مدعی کا نام تو بتاتے جس کو آنحضرت ﷺ نے اپنے بچے مہدی معہود کے علاوہ بھی یہ نشان کسوف و خسوف دیا تھا۔آنحضرت