شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 281 of 670

شیطان کے چیلے — Page 281

280 درج کئے ہیں تا کہ یہ ثابت کریں کہ گویا جماعت احمد یہ آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرتی ہے۔معزز قارئین! یہ وہ اشعار ہیں جو جماعت احمدیہ کے عقائد سے ہرگز تعلق نہیں رکھتے نہ ہی یہ شاعر جماعت کی طرف سے مجاز سمجھے جاسکتے ہیں کہ وہ جماعتی مسلک کو بیان کریں۔لیکن صرف یہی بات نہیں۔اگر اس طرح ہر کس و ناکس کے خیالات پر فرقوں اور قوموں کو پکڑا جائے تو پھر تو دنیا میں کسی قوم اور فرقے کا امن قائم نہیں رہ سکتا۔اب غور سے سن لیں جناب پیر ومرید صاحبان! اگر اکمل صاحب یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ شخص جو قادیان میں بروز محمد کے طور پر ظاہر ہوا، وہ اس محمد ﷺ سے اپنی شان میں بڑھ کر تھا جو مکہ میں پیدا ہوئے تو ہر گز یہ عقیدہ نہ جماعت احمدیہ کا عقیدہ ہے اور نہ ہی کوئی شریف النفس جو حضرت مرزا صاحب کی تحریرات سے واقف ہوا اسے احمدیت کی طرف منسوب کر سکتا ہے۔حضرت مرزا صاحب تو زندگی بھر آنحضرت ﷺ کے حضور اس طرح عجز سے بچے رہے جس طرح قوموں کے لئے راہ بچھی ہو ہشی کہ آپ نے اپنے آپ کو محمد رسول اللہ ﷺ کی آل کے کوچے کی خاک کے برابر قرار دیا ہے۔دیکھئے کس طرح والہانہ عشق کے ساتھ یوں گویا ہیں۔جان و دلم فدائے جمال محمد است خاکم نثار کوچه آل محمد است اب سنئے اکمل صاحب کے ان اشعار کی بات کہ واقعہ کیا ہوا تھا اور اس کا نتیجہ کیا نکلا۔درحقیقت شاعر اپنی شعری دنیا میں بسا اوقات ایسی باتیں بیان کر جاتا ہے جو دراصل اس کے مافی الضمیر کو پوری طرح بیان نہیں کر پاتیں۔اور بار ہا ایسا ہوا ہے کہ بعض اوقات شاعر کو خود اپنے شعروں کی وضاحت کرنی پڑتی ہے۔بہر حال ان اشعار سے بھی جو غلط تاثر پیدا ہوتا ہے وہ غلط تاثر یقیناً ہر احمدی کے لئے جس نے یہ پڑھا سخت تکلیف کا موجب بنا۔جب شاعر سے اس بارہ میں جواب طلبیاں ہوئیں اور مختلف احمدی قارئین نے ان اشعار کی طرز پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو ان صاحب نے ان اشعار کا جو مضمون اور مطلب خود پیش کیا وہ حسب ذیل تھا: وو مندرجہ بالا شعر دربار مصطفوی میں عقیدت کا شعر ہے۔اور خدا جو علیم بذات الصدور ہے شاہد ہے کہ میرے واہمہ نے بھی کبھی اس جاہ وجلال کے نبی حضرت ختمیت مآب کے مقابل پر کسی شخصیت کو تجویز