شیطان کے چیلے — Page 268
267 شہید (بالاکوٹ ) ، آیت لِيُظهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله “ کے متعلق فرماتے ہیں۔" و ظاہر است کہ ابتدائے ظہور دین در زمان پیغمبر علاه بوقوع آمده و تمام آن از دست حضرت مهدی واقع خواهد گردید ( منصب امامت از مولانامحمداسماعیل شہید۔صفحہ 70۔آئینہ ادب چوک مینار انارکلی لاہور 1967ء) یعنی ظاہر ہے کہ دین کی ابتداء حضرت رسول مقبول ﷺ سے ہوئی لیکن اس کا اتمام مہدی کے ہاتھ پر ہوگا۔پھر آیت ” قُل يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُم جَمِيعًا“ کے تحت لکھتے ہیں: و ظاہر است که تبلیغ رسالت به نسبت جمیع ناس از آنجناب متحقق نکشته بلکه امر دعوت از شروع گردیده یوم فیومأ بواسطه خلفاء راشدین و ائمه مهدتین رو به تزاید کشید تا اینکه بواسطه امام مهدی با تمام خواهد رسید (منصب امامت - صفحہ 71) یعنی آنحضرت ﷺ کی رسالت کی تبلیغ حضور ﷺ کے زمانہ میں تمام لوگوں کو نہیں ہوئی بلکہ آہستہ آہستہ خلفاء راشدین اور دیگر ائمہ کے ذریعہ بڑھتی رہی اور اب امام مہدی کے ذریعہ اس کی تکمیل ہو گی۔یہ عبارت ایک حقیقت افروز عبارت ہے۔لیکن اس کے تناظر میں اگر راشد علی کے اعتراض کو دیکھا جائے تو وہ خلفائے راشدین، اور ان تمام آئمہ سلف کو اپنے گھیرے میں لے لیتا ہے جو اسلام کی ترقی اور اشاعت کے لئے کام کرتے تھے۔پس اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارت کو ہدف اعتراض بنایا جا سکتا ہے تو مذکورہ بالا عبارتیں بدرجہ اولی قابل اعتراض ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے لئے یہی مقد رتھا کہ وہ بھی قانونِ قدرت کے تحت ارتقائی منازل طے کرے۔ترقی اسلام کے اس سفر کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چاند کے سفر سے تشبیہہ دی ہے کہ وہ گویا ہلال کی طرح طلوع ہوا اور آسمان زمانہ کی وسعتوں پر اپنی پوری کر نیں پھیلا دینے میں اس نے چودہ راتوں کا سفر طے کیا۔یہ چودہ راتیں، چودہ صدیوں کے لئے بطور تمثیل کے ہیں مگر را شد علی اور اس کا پیر یہ تاثر پیدا کر رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نعوذ باللہ اپنے آپ کو بدر قرار دے رہے ہیں اور مقابل پر آنحضرت ﷺ کو ہلال۔ہم ایسا بہتان لگانے والے پر اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں